خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 290

$1940 289 خطبات محمود جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آزاد نبی مانتا ہے۔اس صورت میں اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم جسے مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں وہ رسول کریم صلی الیکم کا امتی ہے۔ہم کسی ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں جو اپنے آپ کو مستقل نبی قرار دے اور رسول کریم صلی ایم کی غلامی سے آزاد ہو کر نبوت کا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے کیونکہ آپ کو خدا نے بھی نبی قرار دیا ہے اور اس کے رسول نے بھی نبی قرار دیا ہے اور ہمارے نزدیک ایسا شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کو کلیۂ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے وہ خدا کو بھی جھوٹا کہتا ہے اور خدا کے رسول کو بھی جھوٹا کہتا ہے۔اس لئے ان کا راستہ اور ہے اور ہمارا راستہ اور۔پس میں قادیان کی جماعت کو آئندہ تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہوں۔اول اطفال احمدیہ - 8 سے 15 سال تک دوم: خدام الاحمدیہ۔15 سے 40 سال تک سوم: انصار اللہ۔40 سے اوپر تک ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی عمر کے مطابق ان میں سے کسی نہ کسی مجلس کا ممبر بنے۔خدام الاحمدیہ کا نظام ایک عرصہ سے قائم ہے۔مجالس اطفال احمد یہ بھی قائم ہیں۔البتہ انصار اللہ کی مجلس اب قائم کی گئی ہے اور اس کے عارضی انتظام کے طور پر مولوی شیر علی صاحب کو پریذیڈنٹ اور مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے، خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب اور چوہدری فتح محمد صاحب کو سیکرٹری بنایا گیا ہے۔یہ اگر کام میں سہولت کے لئے مزید سیکرٹری یا اپنے نائب مقرر کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے۔ان کا فرض ہے کہ تین دن کے اندر اندر مناسب انتظام کر کے ہر محلہ کی مسجد میں ایسے لوگ مقرر کر دیں جو شامل ہونے والوں کے نام نوٹ کرتے جائیں اور پندرہ دن کے اندر اندر اس کام کو تعمیل تک پہنچایا جائے۔اس کے لئے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محلوں میں پھر کر لوگوں کو شامل ہونے کی تحریک کریں بلکہ وہ مسجد میں بیٹھ رہیں جس نے اپنا نام لکھانا ہو وہاں آجائے