خطبات محمود (جلد 21) — Page 281
$1940 280 خطبات محمود کر دیا ہے کہ میں جماعت کے سامنے یہ اعلان کر دوں کہ آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہو گا۔ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔اگر 15 سے 40 سال تک کی عمر کا کوئی احمدی 15 دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنانام نہیں لکھائے گا تو پہلے اسے سزا دی جائے گی اور اگر اس سے بھی اس کی اصلاح نہ ہوئی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے لئے کسی کو تحریک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔خدام الاحمدیہ ہر گز کسی کے پاس نہ جائیں۔ہاں ہر مسجد میں وہ اپنے بعض آدمی مقرر کر دیں اور ہر نماز کے بعد اعلان ہو تار ہے کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک ہمارا آدمی مسجد میں بیٹھے گا جس نے خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھانا ہو وہ اسے نام لکھا دے اور محلوں کے پریذیڈ نٹوں اور سیکر ٹریوں کا فرض ہے کہ اس کے متعلق خدام الاحمدیہ کی طرف سے جو بھی اعلانات آئیں ان کے سنانے کا فوری طور پر انتظام کریں۔جو پریذیڈنٹ یا سیکرٹری اس میں غفلت سے کام لے گاوہ مجرم سمجھا جائے گا اور اسے سزادی جائے گی۔غرض تمام مساجد میں خدام الاحمدیہ اعلان کرا دیں کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک اس مسجد میں ہمارا فلاں آدمی بیٹھے گا اسے نام لکھا دیا جائے بلکہ انہیں اپنے بعض آدمی قریب کے دیہات میں بھی مقرر کر دینے چاہئیں جیسے نواں پنڈ وغیرہ ہے۔اس پندرہ دن کے عرصہ میں جو شخص خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا ہم پہلے اس پر کیس چلائیں گے اگر کوئی معذور ثابت ہو مثلاً ان دنوں وہ قادیان میں موجود نہ تھا یا چار پائی سے ہل نہیں سکتا تھا تو اس کو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کا دوبارہ موقع دیتے ہوئے باقی ہر ایک کو جس نے ان دنوں خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھایا ہو گا سزا دی جائے گی اور اگر وہ سزا بر داشت کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ہم سزا نہیں لیتے ، ہم خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں رہنا چاہتے ان کے متعلق خدام الاحمدیہ فوراً ایک کمیٹی بٹھا دیں جو تحقیق کرے کہ ان پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔پھر جن کا