خطبات محمود (جلد 21) — Page 274
$1940 273 خطبات محمود الله الله رسول کریم صلی املی کام کی غلامی اور آپ کے احکام کی اتباع سے آزاد ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی الی و کم یا صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت نہیں۔جو باتیں ہمیں اچھی لگیں گی اور جو ہماری مرضی کے مطابق ہوں گی صرف ان میں حصہ لیں گے باقی کسی میں حصہ نہیں لیں گے لیکن اگر ہمارا یہ دعویٰ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سورہ جمعہ کے مطابق امتی نبی ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ کم ہی وہ رسولا ہیں جن کی نبوت ورسالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت شامل ہے تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محمد علی ایم نے جو کام کئے وہی کام مسیح موعود کے بھی سپر دہیں اور جو کام صحابہ نے کئے وہی کام جماعت احمدیہ کے ذمہ ہیں۔مگر میں تعجب سے دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو ہماری جماعت کے دوست یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم صلی اللی کام کے کامل ظل اور امتی نبی ہیں اور وہی شریعت جو رسول کریم صلی علی کریم نے قائم فرمائی اسی کو دوبارہ قائم کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے اور دوسری طرف جماعت کا ایک حصہ صحابہ کے طریق عمل کی جگہ ایک نئی راہ پر چلنا چاہتا ہے اور اس راستہ کو اختیار ہی نہیں کر تاجور سول کریم صلی الم کے صحابہ نے اختیار کی۔گویا ان کی مثال بالکل شتر مرغ کی سی ہے کہ جہاں درجوں اور انعامات کا سوال آتا ہے وہاں تو کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم صلى اللعلم سے کوئی الگ وجود نہیں بلکہ آپ کی بعثت در حقیقت رسول کریم صلی الم کی ہی بعثت ثانیہ ہے۔اس وجہ سے جو صحابہ کا مقام وہی ہمارا مقام۔چنانچہ وہ اس قسم کے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں آتا ہے ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ 9 کہ جیسے اولین میں سے ایک بہت بڑی جماعت نے خدا کا قرب حاصل کیا اسی طرح آخرین خدا کی بہت بڑی رحمتوں کے مستحق ہوں گے۔پس جیسے صحابہ کی جماعت تھی ویسی ہی ہماری جماعت ہے۔جیسے وہ رسول کریم صلی الی یکم کی بعثت اولی سے مستفیض ہوئے اسی طرح ہم رسول کریم صلی ال نیم کی بعثت ثانیہ سے مستفیض ہوئے۔پس ہم میں اور صحابہ میں کوئی فرق نہیں مگر جب قربانی کا سوال آتا ہے تو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے۔گویاوہ بالکل شتر مرغ کی طرح ہیں جو اپنی دونوں حالتوں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔صا الله سة wwwwwwww