خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 144

خطبات محمود 144 1940 امریکہ چلے جاتے ہیں یا آسٹریلیا چلے جاتے ہیں۔اسی طرح وہ بھی مہاجر نہیں بلکہ تارک وطن ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی رہائش ترک کر کے قادیان کی رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔پس ہر شخص جو ہجرت کے مفہوم کو سمجھنا اور صحیح معنوں میں مہاجر کہلانا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے اوقات کو ایسے طور پر خرچ کرے کہ ان کا زیادہ سے زیادہ حصہ دین کی خدمت میں صرف ہو۔یہی ہجرت کی غرض ہوتی ہے اور یہی غرض انہیں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی چاہیئے۔پس قادیان کی جماعت کو میں خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اوقات زیادہ سے زیادہ وقف کریں۔میں نے بتایا ہے کہ ہم نے دوستوں کی سہولت کے لئے شرائط کو بہت سخت نہیں رکھا۔بلکہ ہفتہ ہفتہ بھی اگر مجبوری ہو تو محکمہ قبول کر سکتا ہے۔البتہ میرے نزدیک تبلیغ کو زیادہ نتیجہ خیز اور مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سوائے اشد مجبوری کے کم از کم دو ہفتے ہر شخص سے وقت لیا جائے۔پس میرے نزدیک دوستوں کو دو ہفتہ سے لے کر دو تین مہینہ تک وقت دینا چاہیئے اور یہ کوئی ایسا زیادہ وقت نہیں جس کا بارہ مہینوں میں سے نکالنا مشکل امر ہو۔اگر کوئی شخص سال کے بارہ مہینوں میں سے کم از کم دو ہفتے بھی اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے صرف نہیں کر سکتا تو وہ جہاد جیسے فریضہ کو بُھلا دینے والا ہو گا۔سوائے ان لوگوں کے جو مصنف ہیں یا مبلغ ہیں یا مقرر ، واعظ اور خطیب ہیں انہیں چونکہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں بھی جہاد کا موقع ملتارہتا ہے اس لئے وہ اس فریضہ کے تارک نہیں سمجھے جائیں گے۔مگر دوسرے لوگ جنہیں اس قسم کے مواقع نہیں ملتے وہ اگر تبلیغ میں حصہ نہیں لیتے تو وہ ایک اہم فریضہ کو ادانہ کرنے والوں میں شمار ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار ٹھہرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں پر اس قدر اتمام حجت ہو چکی ہے کہ اگر ایک نظام کے ماتحت ہماری تمام جماعت تبلیغ میں لگ جائے تو پانچ سات سال کے اندر ہی کئی اضلاع کی اکثریت احمدی ہو سکتی ہے۔جو نئے علاقے ہیں ان میں بے شک احمدیت کی تبلیغ کرتے وقت مشکلات پیش آتی ہیں مگر جو علاقے احمدیت کی تعلیم سے واقف ہو چکے ہیں ان کے