خطبات محمود (جلد 20) — Page 394
خطبات محمود ۳۹۴ ۲۶ سال ۱۹۳۹ء موجودہ جنگ میں ہمیں اختلافات کو بھول کر حکومت برطانیہ کی مدد کرنی چاہئے (فرموده ۲۲ رستمبر ۱۹۳۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ نہایت ہی لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ضروری نہیں ہوتا کی کہ جو چیز تم کو جلدی ملنے والی ہو وہ تمہارے لئے اچھی بھی ہو بلکہ بسا اوقات جو چیز بعد میں آنے والی یا دیر سے ملنے والی ہوتی ہے وہ زیادہ اچھی ہوتی ہے اور قریب میں رکھی ہوئی یا قریب میں کی ملنے والی چیز بُری ہوتی ہے۔جس طرح قرآن کریم نے اس نظریہ کو پیش کر کے دُنیا کی ہمتوں کو بڑھانے اور اس کے اخلاقی معیار کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے کہ بعض دفعہ چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں اسی طرح اُس نے اس نظریہ کو پیش کر کے انسان کی عقل اور اس کی ذہانت کو تیز کر دیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ کوئی چیز جو قریب الحصول ہو وہ زیادہ اچھی ہو اور جس چیز کے متعلق انسانی قلوب میں شکوک اور شبہات ہوں کہ معلوم نہیں وہ ملتی بھی ہے یا نہیں اور اگر ملتی ہے تو کب اور کس رنگ میں وہ بُری ہو۔انسانی فطرت کی یہ کمزوری ہے کہ وہ قریب کی چیز کو جو مل رہی ہو بہتر سمجھتی ہے کیونکہ وہ خیال کرتی ہے کہ نہ معلوم کوئی اور چیز ملتی بھی ہے یا نہیں۔پھر کیوں نہ میں اس قریب۔