خطبات محمود (جلد 20) — Page 371
خطبات محمود ۳۷۱ سال ۱۹۳۹ء کی آمد سے زمین کے محافظ کا خرچ بھی کسی قدر نکلتا رہے۔ہاں جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ لوگ اس میں نماز عید اور استسقاء پڑھ سکیں گے مگر احمدیت کے خلاف اسے استعمال کرنے کے مجاز نہ ہوں گے اور اس کی منتظمہ کمیٹی صرف یہاں کی پُرانی آبادی کے افراد پر مشتمل ہوگی۔اس انتظام کی صورت میں ان لوگوں کے دل پر سے یہ بوجھ اُتر جائے گا کہ ان کے لئے عید وغیرہ کے لئے کوئی جگہ نہیں بلکہ میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر مجھ پر ثابت ہو جائے کہ قبرستان کے لئے ان لوگوں کے پاس کافی جگہ نہیں تو اس کے لئے بھی کچھ زمین وقف کر دوں۔گو اس کی وقت تک مجھ پر یہی اثر ہے کہ اس معاملہ میں وہ محض ضد کی وجہ سے شور کر رہے ہیں ورنہ پرانا قبرستان اس غرض کے لئے کافی ہے لیکن اگر وہ کافی نہ ہو تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر احسان کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے جس طرح زندہ لوگوں کا مجھ پر حق ہے اسی طرح کی مُردوں کا بھی مجھ پر حق ہے۔پس اگر مجھ پر ثابت ہو جائے کہ واقعی مُر دے دفنانے کے لئے ان لوگوں کو جگہ کی ضرورت ہے تو مجھے چاہئے کہ اس کے لئے بھی زمین کا انتظام کروں۔اگر یہ ضرورت ثابت ہوئی تو میں اس کے لئے بھی حسب ضرورت زمین وقف کر دوں گا۔انشاء اللہ۔اسے بھی ایک مقامی ٹرسٹ کے سپر د کر دوں گا جو غیر احمدی افراد پر مشتمل ہوگا۔فی الحال ایک ماہ کے لئے یہ پیشکش کرتا ہوں۔ایک ماہ کی شرط میں اس لئے لگاتا ہوں کہ ان کو جلد توجہ ہو جائے ورنہ زیادہ عرصہ گزر جائے تو بات کھٹائی میں پڑ جاتی ہے نیز اس وقت ایک قطعہ میرے ذہن میں ہے جو ممکن ہے بعد میں فروخت ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خواہ وہ کسی قوم کی ہو میں سمجھتا ہوں اگر وہ ضد کی وجہ سے نہ ہو تو اس میں تعاون ضروری ہے۔خواہ عبادت کرنے والے دشمن ہی کیوں نہ ہوں جب کوئی خدا تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو ہمیں ضروری اس سے تعاون کرنا چاہئے۔یہاں کے غیر احمدی پہلے نماز پڑھا ہی نہیں کرتے تھے مگر اب گو ہماری دشمنی کی وجہ سے ہی سہی کچھ نہ کچھ پڑھنے تو لگے ہیں۔میں پہلے ہند و صاحبان سے بھی اسی کی قسم کا ایک معاملہ کر چکا ہوں اور دوسری اقوام سے بھی جائز ضرورتوں کے پورا کرنے میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں اُمید کرتا ہوں کہ جس محبت سے میں نے یہ پیشکش کی ہے وہ بھی اسی سپرٹ میں اس کو دیکھیں گے اور ان ایام میں جبکہ ایک خطر ناک جنگ کے آثار ظاہر