خطبات محمود (جلد 19) — Page 603
خطبات محمود ۶۰۳ سال ۱۹۳۸ء خطابیہ کے معنے اپنے مخاطب کے عقیدہ کے بیان کو اس پر حجت کرنے کی غرض سے بیان کرنے کے ہیں مگر اپنی جماعت کو چُپ کرانا تو مد نظر نہیں ہوتا۔اپنی جماعت کو تو ہدایت دینا مد نظر ہوتا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی دلیل دے کر ایک عیسائی کو چُپ کرا دیں یا ایک یہودی کو چُپ کرا دیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ انجیل کا حوالہ دے کر اپنی جماعت سے کوئی بات منوانے اور اسے چپ کرانے کی کوشش کریں۔غرض اگر ہم غیروں کی کتب سے کوئی ایسا استدلال کریں گے جس سے ہم ان پر حجت نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم یا اس قوم کے سوا دوسری کسی اور قوم کو کوئی علم دیتے ہیں تو ہمارا ایسا استدلال خطابیات میں شمار نہیں ہو گا۔ہاں اگر وہ استدلال جس کتاب سے کیا گیا ہے دلیل بھی اسی کے ماننے والوں کے خلاف ہے تو پھر قرائن اگر موجود ہوں تو وہ خطا بیات میں سے کہلا سکتا ہے۔“ ( الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۸ء) الحجرات: ٣ 66 کنز العمال جلد 2 صفحہ ۱۷ ۱۷۱ مطبوعہ حیدر آباد ۱۳۱۴ھ ابو داؤد کتاب الملاحم باب خبر ابن الصائد الانعام:۲۲ ضمیمہ تحفہ گولڑ و یه صفحه ۱۳ روحانی خزائن جلد ۷ا صفحه ۴۹ ے خبرے: شاید۔کیا پتہ الانعام: ٩٢ ا مریم: ۳۴ طه : ۴۸ الحاقة: ۴۵ ۱۲ الانعام: ۵۵ ا مریم ۱۶ النحل : ٣٣ ها المائدة : عا ۱۲ الفضل ۲۷ / اگست ك البقرة: ٦٢ ۱۸ ۱۹ تفسیر کبیر جلدا صفحه ۴۸۱،۴۸ ( مفهوماً) ۲۰ ال عمران ۱۱۳