خطبات محمود (جلد 19) — Page 581
خطبات محمود ۵۸۱ سال ۱۹۳۸ء باہر ہو کر کوئی بات کرتے ہیں تو ان کی کوئی ہستی ہی نہیں سمجھی جاسکتی۔پس اللہ تعالیٰ کے نبی کے مقابلہ میں کسی کی بات تسلیم نہیں کی جاسکتی خواہ وہ کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام کتنا بلند ہے مگر آپ فرماتے ہیں اگر میرا الہام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کے خلاف ہوتا تو میں اسے تھوک کی طرح اُٹھا کر پھینک دیتا اور اس کی ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی قدر نہ کرتا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے اور یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ آپ پر کوئی خلاف قرآن الہام نازل ہوتا۔پیغامی اس سے غلطی سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے الہامات کو کوئی وقعت نہیں دی اور آپ کے الہامات پر ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی فوقیت رکھتی ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس جگہ اپنے الہامات کا غلط ہونا بیان نہیں کر رہے بلکہ قرآنی الہامات کی عظمت اور برتری کا ذکر فرمارہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ رسول کریمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ عظمت اور شان ہے کہ اگر میرے الہام خلاف قرآن ہوتے تو میں انہیں تھوک کی طرح پھینک دیتا یعنی کبھی ان کی بناء پر دعوی نہ کرتا اور اسے بلغم جتنی حیثیت بھی نہ دیتا۔مولوی ابوالعطاء صاحب نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کی ایک روایت کا بھی اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں: میں نے مندرجہ بالا مضمون بمبئی سے لکھا تھا۔میرے ذہن میں فولادی میخ کی طرح یہ بات قائم تھی کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قتل انبیاء کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور نے فرمایا کہ سلسلہ کا پہلا اور پچھلا نبی تو بہر حال قتل نہیں ہو سکتا۔درمیانی انبیاء میرے راستہ میں نہیں آئے اس لئے ان کا حال مجھ پر نہیں کھولا گیا۔(ملخصاً) اس روایت کا صاف مطلب یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قتل یحیی علیہ السلام وغیرہ کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں فرمایا لہذا اس سلسلہ میں تحقیق سے اگر یہ ثابت ہو کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے تو اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قطعی فیصلہ کے خلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ روایت میں نے بار ہاسنی مگر یاد نہ رہا تھا کہ اس کے راوی کون بزرگ تھے۔قادیان آنے پر معلوم ہوا کہ استاذی المکرم دو