خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۸ء یہ ادنی درجہ ہے جو انسان کو نیکی کے راستہ پر قائم رکھتا ہے کیونکہ جب اُسے یہ یقین ہو کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو لازماً وہ سنبھال سنبھال کر قدم رکھتا ہے اور گناہوں کا آسانی سے شکار نہیں ہوتا۔غرض محسنِ کامل ہونا تو بہت بڑی نعمت ہے لیکن دنیا میں ادنی محسن بھی ہوتے ہیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ فرما دیا کہ اعلی محسن تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی اس رنگ میں کی عبادت کرے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور احسان کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان یہ یقین رکھتے ہوئے عبادت کرے کہ خدا اُس کو دیکھ رہا ہے۔اسی طرح مؤمنوں میں سے بھی بعض ادنی درجہ کے ہوتے ہیں اور بعض اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں مگر جو ادنی ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول کر لئے جاتے ہیں۔کیونکہ مؤمن جس حالت میں بھی ہو خواہ ادنی ہو یا اعلیٰ منعم علیہ گروہ کی سے باہر نہیں ہوتا۔دنیا میں عام طور پر جنہیں ہم تندرست کہا کرتے ہیں ان میں بھی کئی کی بیماریاں پائی جاتی ہیں مگر ہم انہیں بیمار نہیں کہتے اور نہ وہ خود یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کام کے قابل نہیں۔بعض دفعہ ایک جرنیل ہوتا ہے مگر کسی ادنی سی مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ایک پہلوان ہوتا ہے اور وہ بھی کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ان معمولی امراض سے پہلوان اپنی پہلوانی کے فن کو اور جرنیل اپنی فوج کی نگرانی کو ترک نہیں کر دیا کرتا کیونکہ ان کی صحت کی زیادتی ان کی بیماری کی کمزوری پر غالب آئی ہوئی ہوتی ہے۔اسی طرح مؤمنوں میں سے بھی کسی میں کوئی کمزوری کی ہوتی ہے اور کسی میں کوئی مگر ان کمزوریوں کی وجہ سے وہ منعم علیہ گروہ میں سے نہیں نکل جاتے کیونکہ اُن کی نیکیاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ان کی کمزوریاں بالکل چھپ جاتی ہیں۔بہر حال جبکہ ہر مؤمن منعم علیہ گروہ میں شامل ہے تو ہر مؤمن کیلئے تحدیث پالنعمت بھی ضروری ہے اور کی تحدیث بالنعمت یہی ہے کہ عملی رنگ میں دنیا کو فائدہ پہنچایا جائے اور جو کچھ بھی خدا تعالیٰ دے اس سے دوسروں کو متمع کیا جائے۔اگر دین ملے تو دوسروں تک دین پہنچایا جائے ، اگر عرفان ملے تو عرفان دیا جائے ، اگر علم ملے تو علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے ،غرض مؤمن کا مقام اللہ تعالیٰ نے محسن کا مقام رکھا ہے اور جب خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ آقا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فحدت اور ادھر یہ فرماتا ہے کہ ہر مؤمن منعم علیہ گروہ میں شامل ہے تو معلوم ہو ا کہ