خطبات محمود (جلد 19) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۸ء شکل دکھانے کی قابلیت موجود رہتی ہے۔اسی طرح جو شیشہ سامنے پڑا ہوا ہو اس کے سامنے سے بھی کبھی انسان ایک طرف ہو جاتا ہے مگر غائب ہونے کا وقت بہت کم ہوتا ہے اور سامنے رہنے کا وقت بہت زیادہ۔غرض صدیق ، شہید، صالح ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جن میں سے بعض کا مقام زیادہ اہم ہے اور بعض کا کم۔صدیق وہ ہے جو اصل کی تصویر بن جاتا ہے اور جس کی حالت من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری کا مصداق ہوتی ہے۔اسے سامنے رکھو تب بھی وہ وہی صورت دکھائے گا جو اصل کی ہے اور اگر اسے الگ لے جاؤ تب بھی وہ وہی صورت دکھائے گا۔اگر ایک میل دور لے جاؤ تب بھی اور اگر ہزاروں میل پرے جاؤ تب بھی تمہیں اصل اور تصویر کے نقوش میں کوئی فرق دکھائی نہیں کی دے گا۔یہی حال صدیق کا ہوتا ہے اس میں مستقل طور پر رسول کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور اس کی ہو بہو وہی شکل ہو جاتی ہے جو نبی کی ہوتی ہے مگر اس کے برخلاف شہید ا کثر اوقات میں نبوت کے نقوش کو پیش کرنے والا شیشہ ہے اور صالح وہ ہے جو نبوت کے نقوش تو دکھاتا ہے لیکن اس اظہار میں نمایاں وقفے پڑتے رہتے ہیں۔یہ وہ چار انعامات ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زیادہ تر مقصود اس آیت میں یہی چار انعام ہیں۔باقی سب انعامات ان کے تابع ہیں اور چونکہ ان چاروں انعامات سے باہر اور کوئی روحانی انعام نہیں ہوسکتا اس لئے مؤمن یا نبی ہوگا یا مؤمن صدیق ہوگا یا مؤمن شہید ہوگا یا مؤمن صالح ہوگا۔اور اگر ان چاروں مقامات میں سے کوئی بھی مقام اسے حاصل نہ ہو تو وہ مؤمن نہیں ہوسکتا۔ان ساروں کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ یہ منعم علیہم ہیں۔اب جبکہ منعم علیہ گروہ کی تعیین ہو گئی تو سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے آقا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ اپنے رب کی نعمت کی تحدیث کرو اور عملی طور پر ایسے کام بجالاؤ جن سے معلوم ہو کہ تمہیں واقع میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر ہے۔پس معلوم ہوا کہ ہر مؤمن کیلئے تحدیث بالنعمت لازمی ہے اور چونکہ مؤمن بغیر انعام کے