خطبات محمود (جلد 19) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ ۱۶ سال ۱۹۳۸ منعم علیہ گروہ وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات کو دنیا میں جاری کرتا ہے (فرموده ۳/ جون ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو ایک ایسی دعا سکھلائی ہے جو کئی معنوں میں اپنی جلوہ گری کرتی اور قرآن کریم کے مطالب کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔وہ دعا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : کہ اے ہمارے ربّ! تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔یعنی اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام نازل کیا۔ادھر تو یہ دعا سکھائی گئی ہے دوسری طرف قرآن کریم فرماتا ہے کہ مؤمن کی دعا رد نہیں کی جاتی۔چنانچہ سورہ بقرہ میں جہاں روزوں کے فرض کرنے کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے روزے فرض کئے ہیں تا کہ تم میں کامل تقویٰ پیدا ہو۔یہ روزے خدا تعالیٰ کے اس عہد کا نشان ہیں جو قرآن کریم کے نزول کے ذریعہ سے اس نے دنیا سے باندھا ہے۔گویا حضرت کی ابراہیم کے عہد کا نشان ختنہ تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کا نشان رمضان کے روزے ہیں اور امت محمد یہ ان دونوں عہدوں کی وارث بنائی گئی ہے اور اس میں ختنہ ابراہیمی عہد کے اجراء کی علامت ہے اور رمضان کے روزے محمدی عہد کے اجراء کی علامت ہیں۔