خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 253

خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۸ء جس طرح ایک غریب آدمی کو اور پہلے اُسے بٹھا کر پھر خود بیٹھتا ہوں۔بعض غریب اپنے اندازہ سے زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں نہیں بیٹھنے دیتا اور اُن سے کہہ دیتا ہوں کہ جب تک آپ نہ بیٹھیں گے میں بھی کھڑا رہوں گا۔بعض دفاتر کے چپڑاسی آتے ہیں اور وہ زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ نہیں آپ چپڑاسی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجھے خلیفہ سمجھ کر ملنے آئے ہیں۔غرضیکہ جب تک آنے والے کو نہ بٹھالوں میں خود نہیں بیٹھتا۔مجھے ملنے والوں کی تعداد ہزاروں کی تک ہے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں کبھی مختلف ہوا ہو سوائے اس کے کہ میں بیمار ہوں یا کسی کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے کبھی غلطی ہو جائے۔ہاں جلسہ سالانہ کے ایام مستقلی ہیں۔اُن کی دنوں میں ملنے والے اس کثرت سے آتے ہیں کہ ہر ایک کیلئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ہاں اُن دنوں میں بھی جب کوئی غیر احمدی آئے تو چونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا ؟ اس کیلئے کھڑا ہو جاتا ہوں۔یا پھر اُن ایام میں جب ملاقات کا زور نہ ہو تو کھڑا ہوتا ہوں۔میرا اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں ناظروں کو بھی ایسا کرنا چاہئے اور اگر اس کے خلاف کبھی شکایت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ جس کے خلاف شکایت ہو، اُسے تنبیہ کی جائے۔جب تک بات قائم نہ ہوا سلام کی روح قائم نہیں ہوسکتی۔ذرا غور کرو کہ خلیفہ چھوڑ نبی کا بھی کیا حق ہے کہ وہ بندوں پر حکومت کرے۔اگر ہم مذہب اور اسلام کی روح کو سمجھتے ہیں تو اس خدمت کی روح کو بھی سمجھنا چاہئے جس کیلئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔کیا ہمارے لئے یہ بات کم ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو ایک رتبہ دے دیا ہے۔وہ ہمیں ایک چھوٹا سا د نیوی کام کرنے کو دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اپنا مقرب بنالیتا ہے۔گویا اُجرت اس نے ادا کر دی پھر ہمارا کیا حق ہے کہ دونوں جگہ سے اُجرت وصول کریں۔کیا دنیا میں کوئی کی ایسا مزدور بھی ہوتا ہے جو دو جگہ سے اپنی اجرت وصول کرے۔پس جب خدا تعالیٰ ہمیں اس کی خدمت کی اُجرت ادا کرتا ہے تو بندوں سے کیوں لیں قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہے یہ نہیں فرمایا کہ میں اُجرت مانگتا ہی نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے نہیں مانگتا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے اُجرت خدا تعالیٰ سے مل رہی ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں اس بات کا خیال رکھوں کہ