خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 491

خطبات محمود کر کے کہ ۴۹۱ سال ۱۹۳۷ء اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کآخر کنند دعوے پیمبرم اس امر کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ گویزید ایک نہایت ہی نا پاک انسان تھا جس نے محمد اللہ کے نواسے کو شہید کیا اور تیرے دشمن یزیدی صفت ہو گئے ہیں۔مگر پھر بھی ان کا کچھ نہ کچھ لحاظ کرنا کیونکہ یہ آخر یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ انہیں رسول کریم ﷺ سے محبت ہے۔الله تو اخلاص اور عدمِ اخلاص بہت موٹی چیزیں ہیں اور یہ فوراً نظر آ جاتی ہیں۔جسے اخلاص ہوتا ہے اسے اپنے محبوب کی ہر چیز پیاری معلوم ہوتی ہے۔مگر جس کے اندرا خلاص کا مادہ نہیں ہوتا وہ محبت کا دعوئی تو کرتا ہے لیکن اس کے آثار اس کے اندر نہیں پائے جاتے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ تم اپنے اندرا خلاص اور محبت پیدا کرو اور دن اور رات سلسلہ کیلئے قربانیاں کر کے اپنے آپ کو ان لوگوں میں شامل کر و جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی۔اس وقت تحریک جدید کا پہلا دور ختم ہو کر اس کا دوسرا دور عنقریب شروع ہونے والا ہے۔تمہیں چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص کچی قربانی کا نمونہ بنے اور اس تحریک کے جس قدر مطالبات ہیں ان کو پورا کرے۔تا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس تحریک کے دوسرے دور میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو۔یاد رکھو وہ لوگ جنہوں نے آج کوتاہی کی ہوگی ، جنہوں نے آج اپنی قربانیوں کمزوری اور شستی دکھائی ہوگی ، جنہوں نے آج اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے بے تو جہی اور لا پرواہی اختیار کی ہوگی اُن کا گل ان کو اس نیکی کے راستہ سے اور زیادہ دور لے جانے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہی ان پر رحم کرے تو کرے ورنہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ان کی ایمانی حالت خطر ناک ہوگی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ گوسال کا زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر اب بھی وقت ہے، اب بھی لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کا موقع ہے اور گودن بہت تھوڑے رہ گئے اور سال اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر پھر بھی وہ دوست جو اپنی اصلاح کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ان کے سامنے تحریک جدید کے تمام مطالبات موجود ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ ان تمام مطالبات کو پورا کریں۔خواہ وہ مطالبات سادہ زندگی کے متعلق ہیں، خواہ ایک کھانا کھانے کے متعلق ہیں، خواہ تبلیغ کے متعلق ہیں، خواہ وقف زندگی کے