خطبات محمود (جلد 18) — Page 192
خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۷ء میں مومن ہیں ( چونکہ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے اپنے نقطۂ نگاہ میں مومن ہوں لیکن میرے نقطہ نگاہ میں مومن نہ ہوں اس لئے اُن لوگوں سے میرا خطاب نہیں۔کیونکہ وہ مجھ میں سے نہیں اور میں ان میں سے نہیں۔میں ذمہ وار صرف ان لوگوں کا ہوں جو میرے نقطہ نگاہ میں مومن ہیں اور میرے نقطہ نگاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر سچا ایمان لائے ہوئے ہیں ) کہتا ہوں کہ انہیں محسوس کرنا چاہئے کہ وہ تمام ہتھیار جو شیطان نے پہلے زمانوں میں استعمال کئے اُنہیں اِس زمانہ میں بھی استعمال کیا جائے گا اور ان کی آرزوئیں اور خواہشیں اسے ان ہتھیاروں کے استعمال سے باز نہیں رکھ سکتیں۔یہ خدائی خبر ہے جو تمام انبیاء نے دی اور ضروری ہے کہ پوری ہو۔اگر یہ خبر پوری نہ ہو تو نوع بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں، موسیٰ بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں ، داؤڈ بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں ، سلیمان بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں، عیسی بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں۔اور پھر راستبازوں کے راستباز اور بچوں کے بچے اور صادقوں کے سردار حضرت محمد ﷺ بھی نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے قرار پاتے ہیں اور کہنا پڑے گا کہ جو خبر انہوں نے دی وہ پوری نہ ہوئی۔پس گوہم میں سے ہر شخص کی خواہش یہی ہونی چاہئے اور ہے کہ شیطانی حملے کم ہوں مگر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے وہ کبھی ٹل نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا حملے پر حملے ہوں گے اور ابتلا پر ابتلا آئیں گے اور آخر وہی راستباز ٹھہرے گا جو آخر تک اپنے ایمان پر قائم رہے گا اور اس کے اندر اس قدر طاقت ہوگی کہ وہ شیطانی حملوں کا مقابلہ کر سکے۔پس اپنی جماعت کو یعنی ان مخلصین کو جو صرف منہ سے احمدی نہیں کہلاتے بلکہ واقعی سلسلہ سے انس رکھتے ہیں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انہیں فتنوں سے ڈرنا نہیں چاہئے۔کئی لوگ سچے مومن ہوتے ہیں لیکن جب بھی کوئی فتنہ اُٹھتا ہے وہ گھبرا جاتے ہیں اور کہتے ہیں اب کیا ہوگا اور ہر فتنہ کے موقع پر جب بھی گھبرا کر انہوں نے یہ کہا کہ اب کیا ہوگا میں نے انہیں کہا کہ یہی ہوگا کہ تم جیتے اور فتح کے جھنڈے اڑاتے ہوئے نکلو گے۔زمین بدل سکتی ہے ، آسمان بدل سکتا ہے، سمند رخشک ہو سکتے ہیں، پہاڑ اڑ سکتے ہیں مگر جو بات نہیں مل سکتی اور کبھی نہیں مل سکتی وہ یہ ہے کہ ہم ہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا دشمن ہمیشہ ذلیل اور رسوا ہوگا۔بظاہر حالات حملے کتنے ہی سخت ہوں، بظاہر حالات شیطانی طاقتیں کتنی ہی زبردست کیوں نہ ہوں یہ خدا کی تقدیر ہے جو پوری ہوکر رہے گی