خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 60

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء اُس کا زیور بیچ ڈالا اور جب اس طرح بھی کام نہ چلا تو عیسائی ہو گیا چنانچہ وہ اب تک عیسائی حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک سیدھا سادھا نیک طبع نوجوان تھا۔اُس کا ایک لطیفہ مشہور ہے اُس نے ہمارا باغ ایک دفعہ ٹھیکے پر لیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے۔ایک لڑکا جو بورڈنگ میں رہا کرتا تھا اب تو بہت نیک اور مخلص احمدی ہے لیکن اُس وقت بڑا شوخ مزاج ہوتا تھا۔اُس نے ایک دو اور لڑکوں کو اپنے ساتھ ملا کر کہا آؤرات کو ہم باغ میں چل کر میوے کھا ئیں۔جب وہ میوے کھانے گئے تو اُس نے انہیں پکڑ لیا۔باقی دو تو بھاگ گئے مگر یہ قابو آ گیا۔شاید درخت پر تھا اور اُس سے اُتر نہ سکا یا کوئی اور سبب ہوا بہر حال وہ پکڑا گیا۔جب وہ پکڑا گیا تو اس شخص نے پوچھا بتا تیرا نام کیا ہے؟ اس کے نام میں عطر کا لفظ آتا تھا۔پہلے تو اس نے بتانا چاہا اور کی اس کے منہ سے عطر نکل گیا پھر ڑ کا۔پھر نام بتانے لگا تو عطر کا لفظ نکل گیا۔مگر پھر اس نے اپنے آپ کو روکا اور چاہا کہ میں کوئی اور نام بتا دوں۔اتفاقاً اس کا ایک دوسرا نام بھی تھا جو غیر معروف تھا یعنی فضل الدین۔اور اس کی وجہ سے بعض لوگ اسے فجا کہتے تھے۔اُس نے آخر اپنا نام فجا بتا دیا۔نام پوچھ کر اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔جب صبح ہوئی تو وہ بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس آبی اور کہنے لگا آپ کے ایک لڑکے نے رات باغ سے پھل چرایا ہے؟ انہوں نے پوچھا اُس کا کیا نام تھا ؟ وہ کہنے لگا اُس کا نام فجا ہے۔وہ کہنے لگے اس نام کا تو کوئی لڑکا بورڈنگ میں نہیں۔اُس نے کہا تو پھر سکول میں ہوگا۔انہوں نے کہا سکول میں بھی فجا نام کا کوئی لڑکا نہیں۔پھر انہوں نے حلیہ پوچھا تو اُس نے جو حلیہ بتایا اس سے انہیں شبہ پڑا اور انہوں نے اس لڑکے کا نام لیا۔تو وہ کہنے لگا یہ نام نہیں اس کا نام فجا ہے۔وہ کہنے لگے تمہیں کس طرح پتہ ہے کہ اس کا نام فجا ہے؟ وہ کہنے لگا اُس نے اپنا نام یہ بتایا تھا کہ عطر عطر فجا۔وہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے فجا اس نے تمہیں دھوکا دینے کیلئے بتایا ہے ور نہ اصل نام تو اُس کا وہی ہے جو پہلے اس کے منہ سے نکل گیا تھا۔تو اس قسم کی سادہ طبیعت کا وہ آدمی تھا لیکن بعد میں اسراف اور اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنے کے نتیجہ میں اُس کا مال گیا، دولت کی گئی، عزت گئی اور آخر میں مذہب بھی چلا گیا۔تو ہاتھ سے کام نہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔اس سے کی بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہو جاتیں اور اچھے اچھے خاندان برباد ہو جاتے ہیں پھر اس کے نتیجہ میں غرباء ہمیشہ غربت کی حالت میں رہتے ہیں اور انہیں اپنی حالت میں تغیر پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔