خطبات محمود (جلد 17) — Page 58
خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۶ء۔ہے اور تحریر کرنے والا بسا اوقات اپنے گھر میں کام کرتا ہے جبکہ دوسرے لوگ اُسے نہیں دیکھ سکتے۔میں اگر رات کو بارہ یا ایک بجے تک کام کرتا رہوں تو کسی کو کیا پتہ ہے کہ میں نے کوئی کام کیا ہے۔جو شخص نو بجے چار پائی پر لیٹ جاتا ہے وہ یہ سمجھ کر لیٹتا ہے کہ اب ساری دنیا لیٹ گئی ہوگی ، جو شخص دس بجے چار پائی پر لیٹتا ہے وہ یہ سمجھ کر لیٹتا ہے کہ دس بجے سب لوگ سو گئے ہوں گے ، جو شخص گیارہ بجے سوتا ہے وہ یہ خیال کر کے سوتا ہے کہ باقی دنیا بھی اب سو رہی ہوگی اور جو بارہ بجے لیٹتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اب آدھی رات گزرچکی ہے اب تو کوئی شخص کام نہیں کر رہا ہو گا۔وہ کیا جانتا ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس وقت بھی کام میں مشغول ہیں۔کہتے ہیں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔جو چیز آنکھ سے اوجھل ہو اُس کے درمیان ایک پہاڑ حائل ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان اس کے متعلق صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا اور اگر کرے تو اُسے اپنے اوپر قیاس کرتا ہے۔جو شخص چار گھنٹے کام کرتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ چار گھنٹوں سے زیادہ کسی نے کیا کام کرنا ہے اور جو شخص پانچ گھنٹے کام کرتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ پانچ گھنٹوں سے زیادہ کسی نے کیا کام کرنا ہے یہ منافقت نہیں بلکہ اس کی طرف سے حقیقت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ باتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا میں ایسے کام بھی کرنے چاہئیں جو لوگوں کے سامنے آنے والے ہوں۔اس طرح وہ لوگ جن کی نظروں سے کام اوجھل ہوتا ہے اور وہ سستی کرتے ہیں اپنے سے بڑے آدمیوں کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر چست ہو جاتے ہیں۔۔میں نے کئی دفعہ اسلامی زمانہ کا ایک واقعہ سنایا ہے کہ خلافت عباسیہ کے دور میں کوئی مزین تھا جسے کسی امیر نے خوش ہو کر پانچ سو اشرفیاں انعام دے دیں۔جب اُسے اشرفیاں ملیں تو اشرفیاں لیتے ہی اُس نے خیال کر لیا کہ اب دنیا میں کوئی غریب نہیں رہا۔چونکہ وہ امراء کا نائی تھا اور اشرفیوں کے چوری ہونے کا اُسے کوئی خطرہ نہ تھا اس لئے وہ جہاں تزئین کرنے جاتا اشرفیوں کی تھیلی بھی لے جاتا اور اُسے اُچھالتا پھرتا۔امراء کو یہ دیکھ کر مذاق سو جھا۔جب کسی کے پاس جاتا وہ پوچھتا میاں مزین ! شہر کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا شہر کا اتنا اچھا حال ہے کہ کوئی کمبخت ایسا نہیں ہوگا جس کے پاس پانچ سو اشرفیاں بھی نہ ہوں۔اسی طرح روز اُس سے مذاق ہوتا۔ایک دن کسی امیر کو جو مزاح سُوجھا اُس نے چپکے سے وہ تھیلی کھسکا کر اپنے پاس رکھ لی چونکہ حجام کو یہ خطرہ نہیں تھا کہ