خطبات محمود (جلد 17) — Page 542
خطبات محمود ۵۴۲ سال ۱۹۳۶ کہ جسے دیکھ کر دشمن کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ مقصد پورا ہو گیا ہے اور اس دن کی آمد کیلئے اگر ہزار دن بھی انتظار کرنا پڑے تو گراں نہیں ہوتا۔وہ پس انبیاء کا زمانہ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی انبیاء کے زمانہ کولیلۃ القدر قرار دیا ہے چنانچہ فرما یالیلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنَ الْفِ شَهْرٍ يعنى وه ایک رات ہزار مہینوں سے اچھی ہے۔گویا ایک صدی کے انسان بھی اس ایک رات کیلئے اگر قربان کر دئیے جائیں تو یہ قربانی کم ہوگی یہ مقابلہ اُس نعمت کے جو انبیاء کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوتی ہے۔اس میں مؤمنوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انہیں نبوت کے زمانہ کی قدر کرنی چاہئے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے کچھ خطبات عملی اصلاح کے متعلق پڑھے تھے اور جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ عظیم الشان مقصد جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی اسے پورا کرنے کیلئے ہمیں بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اعتقادی رنگ میں ہم نے دنیا پر اپنا سکہ جمالیا ہے مگر عملی رنگ میں اسلام کا سکہ جمانے کی ابھی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر مخالفوں پر حقیقی اثر نہیں ہو سکتا۔موٹی مثال عملی رنگ میں سچائی کی ہے یہ ایسی چیز ہے جسے دشمن بھی محسوس کرتا ہے۔دل کا اخلاص اور ایمان دشمن کو نظر نہیں آتا مگر سچائی کو وہ دیکھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ خاندانی جائداد کے متعلق ایک مقدمہ تھا اسی مکان کے چبوترے کے متعلق جس میں اب صدر انجمن احمد یہ کے دفاتر ہیں اس چبوترے کی زمین دراصل ہمارے خاندان کی تھی مگر اس پر دیرینہ قبضہ اس گھر کے مالکوں کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی صاحب نے اس کے حاصل کرنے کیلئے مقدمہ چلایا اور جیسا کہ دنیا داروں کا قاعدہ ہے کہ جب زمین وغیرہ کے متعلق کوئی مقدمہ ہو اور وہ اپنا حق اس پر سمجھتے ہوں تو اس کے حاصل کرنے کیلئے جھوٹی سچی گواہیاں مہیا کرتے ہیں۔انہوں نے بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کیلئے جھوٹی سچی گواہیاں دلائیں۔اس پر اس گھر کے مالکوں نے یہ امر پیش کر دیا کہ ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ان کے چھوٹے بھائی کو بُلا کر گواہی لی جائے اور جو وہ کہہ دیں ہمیں منظور ہو گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور