خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 302

خطبات محمود ٣٠٢ سال ۱۹۳۶ء احساس چاہئے تھا کہ خواہ پھانسی پر لٹکنا پڑتا، تمہارے بیوی بچوں کو تمہارے سامنے قتل کر دیا جاتا ، تو تم اس بات کو زیادہ پسند کرتے یہ نسبت ایسے لوگوں کے پاس سفارش لے جانے کے۔ایسے افسر تو ہمارے دشمن ہیں مگر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے تو کہا ہے کہ حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن به پائے مردگی ہمسایہ در بہشت بہ یعنی ہمسایہ کی مدد سے جنت میں جانا دوزخ کے برابر ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس قسم کی مثالیں محدود ہیں۔نہ ہندوستان کی ساری گورنمنٹیں ایسی ہیں نہ پنجاب گورنمنٹ کے سارے افسر ایسے ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون کیسا ہے۔پس ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ انسان غیرت سے کام لے اور کہے کہ ہم سفارش نہیں کراتے۔آج حالت یہ ہے کہ پچھلے دنوں ایک بڑے افسر نے کہا کہ احمدیوں کی بھرتی کی حکومت نے ممانعت نہیں کی اور بعض افسروں نے اعلان کیا تھا کہ سیدوں کی بھرتی منع نہیں ہے مگر میں نے تحقیقات کی ہے یہ دونوں باتیں صحیح ہیں یہ حکم بھی ہے کہ سیدوں کو بھرتی نہ کیا جائے اور یہ حکم بھی کہ احمدیوں کو بھرتی نہ کیا جائے وَاللهُ اَعْلَمُ معاملہ کیا ہے۔اس بڑے افسر کو یا تو علم ہی نہ تھا یا اس نے کی غلط بیانی کی لیکن جب یہ صیح ہے کہ ایک طبقہ ضرور ہمارا مخالف ہے تو ہمیں چاہئے دوسروں کے پاس کوئی سفارش نہ لے جائیں۔جو مخالف نہیں اگر ان کے پاس ہم سفارش کریں تو ممکن ہے وہ تو کوئی احسان نہ جتائیں مگر مخالف طبقہ ضرور کہے گا کہ ہم نے فلاں وقت تمہارا کام کر دیا تم ہمیں کس طرح اپنا مخالف کہتے ہو اور یہ الفاظ سننے کیلئے کیا تمہاری غیرت تیار ہے؟ بے شک ایسے افسر اور ہیں اور دوست اور مگر ہمیں تو اتنی عقل چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں ہمیں کیا طعنہ ملے گا۔بے شک جو انگریز ہمارے دوست ہیں یا حسنِ ظنی رکھتے ہیں وہ ایسی بات یاد نہیں دلائیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ اچھے شہری ہیں، قانون کے پابند ہیں اور مُلک میں امن قائم کرتے ہیں ان کے بھی حقوق ہیں انہیں کیوں تلف کریں مگر وہ حصہ جو جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتا وہ دوسروں کے کام کو لے کر ہمارے منہ پر مارے گا اور کہے گا تمہیں یاد نہیں فلاں وقت ہم نے تمہارا فلاں کام کیا تھا۔مگر افسوس کہ جماعت کے بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔پتہ نہیں ہمارے ساتھ جو ہورہا ہے اور جس کا میں نے بار بار