خطبات محمود (جلد 17) — Page 1
خطبات محمود O سال ۱۹۳۶ء سال نو کا پروگرام (فرموده ۳/ جنوری ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا:۔مجھے ابھی تک گلے کی تکلیف سے آرام حاصل نہیں ہوا اور آج سر میں درد بھی ہے اس کی لئے کوئی لمبا خطبہ بیان نہیں کر سکتا اختصاراً بعض باتیں بیان کر دیتا ہوں۔سب سے پہلے یہ اعلان کرتا ہوں کہ چونکہ جلسہ کا کام اور رمضان ختم ہو چکا ہے اس لئے اس ہفتہ سے اتوار کے روز سے سپ معمول درس شروع ہو جائے گا۔ہفتہ کے روز مستورات کا درس ہوتا ہے، مردوں کا نہیں ہوتا۔پس اتوار سے مردوں کا درس شروع کیا جائے گا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہاں بعض دفعہ مبلغوں کے آنے جانے پر پارٹیاں ہوتی ہیں۔میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے کہ منتظمین غلطیاں کرتے ہیں۔کئی دفعہ اصلاح کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے مگر پھر وہی غلطیاں ہوتی ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ غلطی کے بعد وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہم کو سزا نہ ملے اور چونکہ وہ سزا سے بچ جاتے ہیں اس لئے پھر اُسی غلطی کے کرنے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔سزا انسانی ترقی کیلئے ضروری ہوتی ہے اس لئے جب غلطی ہو تو انسان کو اس کا خمیازہ بھگتنے کیلئے خود کو تیار کرنا چاہئے۔جب تک یہ روح پیدا نہ ہو غلطیوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ایسے مواقع پر منتظمین بعض ایسی حرکات کرتے ہیں جو دنیا کے عام مروجہ طریق کے لحاظ سے بھی نہایت ناپسندیدہ اور ناشائستہ ہوتی ہیں۔مثلاً آج ہی ایک واقعہ ہوا ہے۔بعض مبلغین کے جانے پر مدارس کے طلباء نے ایک پارٹی کا انتظام کیا۔ایسی پارٹیوں کو میں نہ صرف یہ