خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 810 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 810

خطبات محمود ۸۱۰ سال ۱۹۳۵ء پھرتے تھے ، اسے قتل کرنا چاہتے تھے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے اسکی مدد کی۔اور یہ اتنی کھلی بات ہے کہ کا فر بھی اسے محسوس کرتے ہیں۔کار لائل انگلستان کے چوٹی کے مصنفین میں سے ایک ہے اور ایسے مصنفین میں سے ہے جو اقوام کی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔مگر میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تو اسکے صاف معنے ہیں کہ کوئی تلوار چلانے والے بھی تھے پس سوال یہ ہے کہ وہ تلوار چلانے والے کہاں سے آئے تھے اور انہیں اسلام میں کون لایا تھا ؟ اگر کہو کہ وہ تبلیغ سے مسلمان ہوئے تھے تو جو مذہب تلوار چلانے والوں کو فتح کر سکتا تھادوسروں کو بھی فتح کر سکتا تھا۔یہ کیا ہی فطرت کے مطابق جواب ہے غرض اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تم کہہ دو کہ ہم سے مدد نہیں ہو سکتی تو تمہاری مدد کی ضرورت ہی کیا ہے تم صاف کہ دو ہم نہیں کرتے۔یہ درمیانی طریق کیوں اختیار کرتے ہو۔میں بھی یہی بات آج جماعت سے کہتا ہوں کہ اگر تم میری مدد اس حد تک نہیں کرنا چاہتے جس حد تک میرے نزدیک دین مدد کا محتاج ہے تو صاف کہہ دو۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ خواہ آسمان سے اُتارے یا زمین سے نکالے اپنے سلسلہ کی ترقی کے سامان خود کرے گا۔تم کہہ دو کہ ہم ساتھ نہیں جاسکتے یا صرف فلاں حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔جو ایسا کہہ دے گا اُس کی بیعت اگر میں چاہوں تو رکھوں گا ورنہ نہیں۔اور اگر رکھوں گا تو پھر ساتھ نہ چلنے کا اُس پر مجھے شکوہ نہ ہو گا شکوہ ہے تو ان لوگوں پر جو بیعت کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں ہمارا سب کچھ حاضر ہے مگر پھر ساتھ نہیں چلتے بلکہ جب حقیقی قربانی کا وقت آتا ہے ستی دکھاتے ہیں۔دیکھو! ایک شخص اگر دوسرے سے کہے کہ تم اس سال غلہ نہ خرید و اور کوئی انتظام نہ کرو اس سال کے لئے میں تمہارے غلہ کا ذمہ دار ہوں اور پھر غلہ کا انتظام بھی نہ کرے تو اُس پر ضرور شکوہ ہو گا لیکن اگر وہ نہ آتا اور کوئی وعدہ نہ کرتا تو پھر اُس پر کوئی شکوہ نہ ہوتا بلکہ اس پرشکوہ کرنے والے کو ہر شخص بے حیا کہتا۔لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ تم سامان نہ کر واب کے سال غلہ میرے ذمہ ہے اور میں بھیج دوں گا تو پھر نہ بھیجنے کی صورت میں اسے بے حیا کہا جائے گا۔تو اس نے خواہ مخواہ دوسرے کو دھوکا دیا اور اس کے لئے تکلیف کا موجب ہؤا۔اسی طرح میرا تم پر کوئی حق نہیں بلکہ تم پر تو