خطبات محمود (جلد 16) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۵ء موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مخالف خیال کیا کرتے تھے کہ آپ کی زندگی کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔لیکن پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہ کہا جانے لگا کہ مرزا صاحب تو جاہل تھے سارا کام مولوی صاحب ہی کرتے تھے ان کی آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے تو بس یہ سلسلہ ختم۔پھر ان کی آنکھیں بند ہوئیں اور لوگوں نے خیال کیا کہ اصل کام انگریزی خوان لوگ کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نکال کر باہر کیا اور جماعت کی باگ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی جس کے متعلق پیغامی کہتے تھے کہ ہم خلافت کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ہماری مخالفت کی بناء یہ ہے کہ اگر جماعت کی باگ ایک بچے کے ہاتھ میں آ گئی تو سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔مگر دیکھو کہ اس بچے کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کی گاڑی ایسی چلائی کہ وہ ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچی اور اب اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہے کہ ان لوگوں کے وقت میں جتنے لوگ جلسہ سالانہ پر شامل ہوتے تھے اس سے بہت زیادہ آج میرے جمعہ میں ہیں۔سوائے افغانستان کے باقی تمام بیرونی ممالک کی جماعتیں میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئی ہیں اور یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ یہ سلسلہ خدا کے ہاتھوں میں ہے اس لئے دشمن کی باتوں سے نہ گھبراؤ۔وہ کسی کو مار بھی دیں تو بھی یہ سلسلہ ترقی کرے گا۔تمہیں چاہئے کہ تم اپنے اصول کو قائم رکھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے ایمان کو قائم رکھو اور آپ کی آمد کے مقصد کو یا درکھو ، خلافت کی اہمیت کو نہ بھولو اور اسے پکڑے رہو پھر تمہیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔ڈر کی بات صرف یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے اصول کو نہ بھول جائیں اور سلسلہ کی وجہ سے جو فوائد حاصل ہورہے ہیں انہیں اپنی طرف منسوب نہ کر لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور آپ کی نبوت اور ماموریت سے آپ کی جماعت نے فائدہ اُٹھایا مگر بعض انگریزی دانوں نے سمجھا کہ ترقی ہم سے ہو رہی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو الگ کر دیا اور پھر بھی سلسلہ کو ترقی دے کر بتا دیا کہ اس سلسلہ کی ترقی کسی انسان سے وابستہ نہیں۔پس مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد کیا ہو گا بلکہ ڈر یہ ہے کہ خلافت سے علیحدہ ہو کر تم لوگ نقصان نہ اٹھاؤ۔کسی خلیفہ کی وفات سلسلہ کے لئے نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی لیکن خلافت سے علیحدگی یقیناً نقصان کا باعث ہے۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا ہے جس کے دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، مندر بھی اور مبشر بھی لیکن چونکہ باہر سے بھی قریباً ایک درجن خطوط آئے