خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 394

خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۳۴ء ہندوؤں نے گورنمنٹ کو نوٹس دیا تھا کہ ہم ایک لاکھ والٹیئر ز اس کے خلاف جنگ کرنے کیلئے تیار کریں گے۔اس پر ہم نے بھی اپنی جماعت کی تنظیم شروع کردی اور گورنمنٹ کے سامنے اپنی خدمات رکھ دیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو بھی قوموں نے محسوس کیا اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم گورنمنٹ کو دھمکی دیتے ہیں تو یہ دھمکی کا اثر بھی قبول ہونے نہیں دیتے آؤ اس جماعت کا ہی متحدہ مقابلہ کریں۔پچھلے دنوں ایک اخبار والوں کو دھمکی دی گئی کہ اگر مسلمانوں کے حقوق کی تائید سے وہ نہ رُکے تو اس کے دروازوں پر پکٹنگ کیا جائے گا۔ہم نے جب یہ سنا تو اپنے نوجوانوں کی خدمات پیش کردیں اس پر کسی نے پکٹنگ نہ کیا۔پس لوگوں نے دیکھا کہ جب وہ دھمکیاں دیتے ہیں تو ہم ان کی دھمکیوں کو باطل ثابت کر دیتے ہیں، سیاسی لحاظ سے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ، مذہب کے نام پر لوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں تو اس میں روک بن جاتے ہیں اور ان کا پول کھول دیتے ہیں، طاقت اور گھمنڈ سے مرعوب کرنا چاہتے ہیں تو یہ اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں اس لئے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں میں سے ہر شخص ہماری کوششوں پر بُرا مناتا ہے۔اور ہماری مخالفت کرنا اپنے مقاصد کیلئے مفید سمجھتا ہے۔سیاسی مخالفت کے اسباب میں سے ایک ہمارا اس وقت شمشیر کے جہاد کی مخالفت کرنا بھی ہے۔مولوی اس مسئلہ کی مدد سے عوام کو خوب بھڑکا سکتے تھے ہم نے اس حربہ کو بھی چھین لیا ہے۔پس ہماری جماعت کی مخالفت نہایت وسیع پیمانہ پر ہے اور سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک احمدیوں کو کمزور نہ کر دیا جائے یا احمدیوں اور حکومت میں لڑائی نہ کرا دی جائے اس وقت تک ان کا قدم مضبوطی سے جم نہیں سکتا۔یہ صرف خیالی بات نہیں بلکہ خود مجھ سے آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے ایک ذمہ دار آدمی نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو جب یورپ کی سیاحت سے واپس تشریف لائے تو سٹیشن پر ہی دورانِ گفتگو میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے دورانِ سیاحت میں محسوس کرایا گیا ہے کہ اگر ہم ہندوستان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے احمدیہ جماعت کو کچل دینا چاہیئے۔اس غرض کیلئے انہوں نے کئی کوششیں بھی کیں مگر خدا کے فضل سے کامیاب نہ ہوئے۔اب کانگرس والوں کی ایک طرف تو یہ کوشش ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے لڑا کر کمزور کر دیا جائے اور دوسری طرف یہ کوشش ہے کہ ہماری انگریزوں سے لڑائی ہو جائے۔ممکن ہے انگریز افسروں میں سے کوئی اس غلط فہمی میں