خطبات محمود (جلد 15) — Page 213
خطبات محمود ۲۱۳ سال ۶۱۹۳۴ کیلئے مقرر کئے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ سامان کے بغیر بھی بعض اوقات کوئی کام ہو جاتا ہے، مگر اس میں بھی اخفاء کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔یہ کبھی نہ ہوگا کہ دعا کی اور عناصر میں یکا یک ویسا ہی تغیر پیدا ہو گیا۔مثلاً پانی ملنے کیلئے دعا کی جائے تو یہ نہ ہوگا کہ ہوا میں سے آکسیجن اور ہائیڈروجن الگ ہو کر آپس میں مل جائیں اور پانی بن جائے۔پانی کیلئے اللہ تعالی کوئی ظاہری سامان ہی کرے گا۔مثلاً کسی قافلہ کو بھیج دے گا جس کے پاس پانی ہو گا، کسی سوکھے ہوئے کنویں سے پانی نکل آئے گا یا کوئی اور سامان پیدا ہو جائے گا یہ کبھی نہیں ہو گا کہ ہوا سے گیس نکل کر پانی بن جائے۔پس جہاں اللہ تعالی کی طرف سے بغیر سامان کے کام ہوتے ہیں، وہاں بھی اخفاء کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں بھی اس قسم کے معجزہ کی مثالیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشف میں دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بعض پیشگوئیاں لکھیں جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔اور وہ کاننذ دستخط کرانے کیلئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے قلم کو دوات میں ڈالا اور جس طرح زیادہ سیاہی لگ جانے سے اسے چھڑک دیا جاتا ہے چھڑکا اور سُرخ رنگ کے چھینٹے آپ پر بھی گرے۔آپ نے اُٹھ کر بعینہ ویسے ہی قطرے دیکھے۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری مرحوم و مغفور جو اُس وقت آپ کے پاؤں دبارہے تھے ان کی ٹوپی پر بھی قطرے گرے۔اب یہ ایک نشان ہے اور ایسی چیز پیدا کی گئی جو عام قانون جاریہ میں نظر نہیں آتی مگر یہاں بھی اختفاء کا پہلو ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رویا دیکھا اور رویا اپنی ذات میں اخفاء ہے۔پھر جو جاگتا تھا اس نے نہ قلم دیکھا نہ دوات نہ خدا کا ہاتھ اور نہ چھینٹے گرتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سب کچھ دیکھا مگر آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے اور یہ نظارہ کشف کا تھا اس طرح یہاں بھی اختفاء موجود ہے۔پس تمام کام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے جاتے ہیں، ان میں اخفاء ضرور رکھا جاتا ہے۔آنحضرت ا کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے برتن میں ہاتھ ڈالا جس میں پانی کم تھا۔مگر پھر بھی سب لوگ سیراب ہو گئے اے- اس میں بھی اخفاء ہے جس کی وجہ سے کوئی اس کی یہ تاویل کر لیتا ہے کہ صحابہ نے جب پانی جمع کرنا شروع کیا تو اس کا اندازہ کرنے میں غلطی کی۔دراصل پانی ان کے اندازہ سے زیادہ تھا۔کوئی کہتا ہے اللہ تعالی نے تھوڑے پانی میں ہی برکت