خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 273

خطبات محمود ۲۷۳ سال بجٹ کے موقع پر جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا کہ جو لوگ کام نہیں کر سکتے ، انہیں چاہیئے کہ وہ بجائے روک بننے کے ہمارے راستہ سے ہٹ جائیں۔جیسا کہ گھوڑ دوڑ میں اگر ایک کنکر بھی راستہ میں پڑا ہوا ہو تو وہ دوڑ میں روک بن سکتا ہے۔اور اس کی وجہ سے پہلی سی تیزی نہیں رہ سکتی۔اسی طرح روحانی جماعتوں میں بھی جبکہ سمجھدار اور اخلاص رکھنے والے دوڑ میں شامل ہوتے ہیں بعض لوگ درمیان میں روک بن کر آکھڑے ہوتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماعت میں وہ تیزی نہیں رہتی جو رہنی چاہیے۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ علیحدہ ہو جائیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ جب ہماری مرضی ہوگی کام کریں گے اور جب نہیں ہوگی نہیں کریں گے۔اگر ایسے لوگ ہمارا ساتھ نہیں دینا چاہتے تو چھوڑ دیں۔اب بھی میں یہی کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو علیحدہ ہو جانا چاہیے۔خوامخواہ جھوٹی تعداد بڑھانے کا فائدہ کیا ہے؟ ایک زمانہ تھا جب ساری دنیا میں اتنے احمدی بھی نہیں تھے جتنے آج جمعہ میں بیٹھے ہیں مگر اُس وقت بھی کام ہو رہا تھا۔اُس وقت بھی سلسلہ کی طرف لوگ متوجہ ہوتے تھے۔اور اُس وقت بھی یورپ اور امریکہ میں احمدیت کا نام پھیلا ہوا تھا۔اور خواہ لوگوں کی کثرت نہ تھی اور تھوڑے سے لوگ احمدیت میں شامل تھے مگر وہ چند آدمی بھی دنیا میں شور مچارہے تھے۔اور خدا تعالی انہی کی آواز کو دنیا میں پھیلا رہا تھا۔کیونکہ جہاں انسانی کوششوں میں کمی ہو وہاں خدا تعالیٰ کا فضل اس کمی کو پورا کر دیتا ہے۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ جماعت کو اس طرف فوری توجہ کرنی چاہئیے۔ورنہ مجھے کوئی ایسا قدم اُٹھانا پڑے گا جو سزا کی قسم کا ہو گا۔سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیان کی جماعت میں بھی بیداری نہیں۔عام طور پر یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ یہاں کے لوگوں کے پاس جب چندہ وصول کرنے والے پہنچتے ہیں تو وہ کئی قسم کے مذر اور حیلے بہانے کرنے لگ جاتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بھی حقیقی طور پر خدمت دین کا بوجھ اُٹھانے کیلئے تیار نہیں۔یہ تو نہیں کہ ایسے ہوں۔سینکڑوں ایسے ہیں جو عام چندوں کی ادائیگی کے باوجود ہر طرح دینی خدمات میں لیتے ہیں۔اور درحقیقت وہی لوگ سلسلہ کے عمود اور ستون ہیں۔اور انہی کو سلسلہ کا سچا کہا جاسکتا ہے۔مگر جو ایسے نہیں ان کے متعلق مجھے یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ وہ قادیان میں رہ کر دوسروں کیلئے زیادہ اعلیٰ نمونہ بننے کی کوشش کریں۔جن دینی قربانیوں کا ہم خادم