خطبات محمود (جلد 14) — Page 167
خطبات محمود۔196 سال ۶۱۹۳۳ کے اس کیلئے کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ ریوالور اپنے سر میں مار کر ہلاک ہو جائے۔رسول کریم ﷺ کے دشمن اتنے شدید تھے کہ انہوں نے آپ کی دشمنی کی وجہ سے عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مارے جلتے ہوئے پتھروں پر مردوں کو لٹایا اور قسم قسم کے دکھ پہنچائے۔ایسے شدید معاند غارثور کے منہ پر پہنچ جاتے ہیں۔آپ کیلئے اُس وقت بظاہر کوئی جائے پناہ نہ تھی۔حضرت ابو بکر کہتے ہیں یا رسول اللہ ! دشمن اتنا قریب آچکا ہے کہ اگر وہ ذرا جھکے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کوئی فکر کی بات نہیں، اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے۔یہ کیا چیز تھی۔محمد ﷺ اپنے تجربہ کے لحاظ سے اپنے ظاہری علوم کے لحاظ سے اس قسم کی تدابیر تو نہیں جانتے تھے جو یورپ کے جرنیل جانتے ہیں۔نہ آپ کے پاس حفاظت کا کوئی سامان تھا۔آج کل تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ جیب میں ہم ہے۔دشمن کو مار دیں گے۔مگر وہ کیا چیز تھی جس نے رسول کریم ﷺ کے منہ سے کہلوایا- لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا۔یہ وہی نور ہے جو اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کے ماتحت آپ کے دل میں تھا۔پس اللہ تعالی کی محبت ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کوئی حقیقی مسکھ نہیں مل سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول ایک صراط پر سے گزر کر ہوتا ہے۔یہ راستہ بظاہر آسان ہے بباطن مشکل مگر بعض دفعہ بظاہر مشکل اور باطن آسان ہوتا ہے۔میرا دوسرا فقرہ پہلے کے خلاف نہیں بلکہ دونوں فقرے دو مختلف کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔جب ظاہر میں مشکل ہوتا ہے تو باطن میں آسان ہوتا ہے اور جب ظاہر میں آسان ہوتا ہے تو باطن میں مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ جہاں ہمارا ایک رحم کرنے والے خدا سے واسطہ ہے وہاں غیور خدا سے بھی واسطہ ہے وہ جہاں رحم کرتا ہے وہاں غیرت سے بھی کام لیتا ہے۔اس وقت میں یہ اشارہ ہی کرتا ہوں۔آج میں اس مضمون کو بیان نہیں کر سکتا۔کیونکہ وقت بہت ہوچکا ہے دراصل مضمون میرا وہی تھا۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اس حصہ مضمون کو پھر کبھی بیان کروں گا۔الفضل ۲۲ - جون ۱۹۳۳ء)۔له بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تعالى وجوه يومئذ ناضرة الى ربها ناظرة الخ، کتاب الرقاق باب الصراط جسر جهنم و بخاری کتاب القدر باب العمل باالخواتيم