خطبات محمود (جلد 13) — Page 447
خطبات محمود ۴۴۷ 54 سال ۱۹۳۲ء جماعت احمدیہ کی شاندار مالی قربانی (فرموده ۱۳- مئی ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں ایک اور امربیان کرنا چاہتا تھا لیکن گھڑی نہ دیکھنے کیوجہ سے قریبا ڈیڑھ بجے کے بعد کام چھوڑ کر کھانا کھایا اور جمعہ کی تیاری کرتے کرتے اب دو سے بھی اوپر ہو چکے ہیں اس لئے نہایت اختصار کے ساتھ ایک امربیان کر دیتا ہوں۔گذشتہ مالی سال ختم ہونے پر قریباً ۴۸۰۰۰ قرض تھا جو ترقی کرتے کرتے اکتوبر میں جب میں نے چندہ خاص کی تحریک کی بہتر ہزار کے قریب جا پہنچا اس کے علاوہ کچھ اور قرض بھی تھے علاوہ بلوں کے اور پھر جلسہ سالانہ کے اخراجات بھی تھے جو چندہ خاص سے ہی پورے کرنے تھے سو میں نے جماعت کو تحریک کی کہ ایسی کوشش کی جائے کہ پچھلا قرضہ بے باق ہو جائے اور باوجود اس کے کہ ہماری جماعت کا زمیندار طبقہ مالی حالات کے خراب ہو جانے کی وجہ سے اس میں بہت کم حصہ لے سکتا تھا اور باوجود اس کے کہ ملازموں کی تنخواہوں میں عام طور پر دس فیصدی کی تخفیف کردی گئی تھی اور بعض کی تنخواہوں میں تو اس سے بھی زیادہ کمی ہو گئی تھی اگر چہ بعض کی اس شرح سے کم تھی لیکن بعض کی ۲۵ فیصدی تک تھی اور وہ لوگ اس خطرہ کو محسوس کر رہے تھے کہ سردی کے ایام میں جب اخراجات کی زیادتی ہوتی ہے ان کی آمد کم ہوگی لیکن باوجود ان حالات کے جیسا کہ اللہ تعالی کا دستور ہے کہ ہماری جماعت جب بھی کوئی قربانی کرتی ہے تو وہ اپنے فضل سے اس میں برکت ڈال دیتا ہے اس موقع پر بھی اس نے اپنے فضل سے توفیق دی اور دوستوں نے ڈیڑھ لاکھ چندہ خاص جمع کر دیا اس میں ماہوار چندے بھی شامل تھے جو قریباً ۵۴۰۰۰ ہزار بنتے ہیں اور سالانہ جلسہ کا سولہ سترہ ہزار خرچ