خطبات محمود (جلد 13) — Page 209
۲۰۹ 23 حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا انتقال (فرموده ۳- جولائی ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے وَلَا نُبْقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذكرا یعنی ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کو جو تیرے لئے شرمندگی یا رسوائی کا موجب ہو سکیں مٹا دیں گے۔اس الہام کو میں دیکھتا ہوں کہ ان عظیم الشان کلمات الیہ میں سے ہے جو متواتر پورے ہوتے رہتے ہیں اور جن کے ظہور کا ایک لمبا سلسلہ چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق جو اعتراض کئے جاتے تھے ان میں سے ایک اہم اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ کے رشتہ دار آپ کا انکار کرتے ہیں اور پھر خصوصیت سے یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک لڑکا آپ کی بیعت میں شامل نہیں۔یہ اعتراض اس کثرت کے ساتھ کیا جاتا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں سلسلہ کا ورد تھا وہ اس کی تکلیف محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔میں دوسروں کا تو نہیں کہہ سکتا لیکن اپنی نسبت کہہ سکتا ہوں کہ میں نے متواتر اور اس کثرت سے اس امر میں اللہ تعالٰی سے دعائیں کیں کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہزارہاد فعہ اللہ تعالی سے دعا کی ہوگی اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں بغیر ذرہ بھر مبالغہ کے کہ بیسیوں دفعہ میری سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہو گئی۔اس وجہ سے نہیں کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ میرا بھائی تھا بلکہ اس وجہ سے کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا تھا اور اس وجہ سے کہ یہ اعترض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر پڑتا تھا۔میں نے ہزاروں دفعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور آخر اللہ تعالٰی نے اس کا نتیجہ یہ دکھایا کہ مرزا سلطان احمد صاحب جو ہماری دوسری