خطبات محمود (جلد 13) — Page 150
خطبات محمود ۱۵۰ 17 سال ۱۹۳۱ء جماعت احمدیہ کا ہر فرد بیدار ہو (فرموده ۱۵- مئی ۱۹۳۱ء) تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قریباً ایک ماہ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے اسی مسجد میں قادیان کے احباب کے سامنے خطبہ جمعہ پڑہا تھا۔اس وجہ سے کئی ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن وہ تمام باتیں ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتیں پھر نئی نئی باتیں پچھلی باتوں کو پیچھے ڈال دیتی ہیں اور تازہ باتوں کو مقدم کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ میں نے پہلے ایک خطبہ کہا اور اس سلسلہ میں بعض اور خطبات کہنے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں آنے والے واقعات اس رنگ میں زور پکڑ گئے کہ انہوں نے میری ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔پس میں اب بھی نہیں کہہ سکتا کہ پچھلے دنوں جو واقعات ہوئے ان کے متعلق میں پورے طور پر بیان کر سکوں گا یا نہیں۔مگر بہر حال جو کچھ میں کہہ سکتا ہوں اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ ایسی باتیں پیدا کر دے جو ان باتوں سے زیادہ توجہ کی مستحق اور ان سے مقدم کرنے کے قابل اور اپنے وقت کے لحاظ سے ضروری ہوں بیان کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔آج میں بوجہ اس کے کہ وقت زیادہ ہو چکا ہے اور اب ہم ایسے وقت میں سے گزر رہے ہیں کہ اگر خطبہ کو طول دیا جائے تو عصر کا وقت آجائے نہایت اختصار کے ساتھ اپنے دوستوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جب کوئی قوم کسی عظیم الشان کام کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو اس کی دشمنی بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جتنا بڑا کام اور مقصد کسی جماعت کے سامنے ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ اس کی مخالفت بھی ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے زیادہ فضل ہونے والے ہوں، اتنے ہی زیادہ اس کی طرف سے ابتلاء