خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 332

خطبات محمود ٣٣٢ سال ۱۹۳۰ء انسان یہ سمجھے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کرے گا وہی ہو گا۔عمل کے لحاظ سے تو یہ کہے کہ جو خدا کہے گا وہی کروں گا لیکن نتیجہ کے لحاظ سے یہ سمجھے کہ جو خدا کرے گا وہی ہو گا۔اگر کسی طالب علم کے کئی استاد ہوں تو وہ ان میں سے جس سے چاہے کوئی بات معلوم کر سکتا ہے۔جب کئی طبیب ہوں تو کسی ایک سے مشورہ لیا جا سکتا ہے لیکن جب ایک ہی ہو تو اسی پر توکل کرنا پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دعا ئیں بہت زیادہ کرتا ہے۔جب یہ خیال ہو کہ بہت سے ایسے لوگ نہیں جن سے میں عند الضرورت مدد لے سکتا ہوں تو انسان زیادہ مضطرب نہیں ہوتا لیکن جو یہ سمجھے کہ ایک ہی در ہے اور اس کے سوا میرا کوئی آسرا نہیں تو اس خیال سے ہی وہ رو پڑتا ہے اور کہتا ہے میں تجھے چھوڑ کر اور کہاں جاؤں۔گویا تو کل عملی انسان کو عمل میں اور تو تکل اعتقادی دعا میں تیز کرتا ہے اس لئے تو گل کے بعد کہتا ہے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِین تیرا دروازہ چھوڑ کر میں کہا جاؤں اس طرح انسان کو عملی لحاظ سے بھی اور عقیدہ کے لحاظ سے بھی خدا پر توکل کرنا سکھایا جس سے دعا میں زیادہ رقت درد اور جوش پیدا ہوتا ہے اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف اس طرح جھکتا ہے کہ گویا اپنے آپ کو اس کی راہ میں مٹا ڈالتا ہے اور اسی کا نام حقیقی تو کل ہے۔ایک دفعہ رسول کریم عملے سے بعض لوگ باہر سے ملنے کے لئے آئے چونکہ انہیں حد درجہ عشق تھا اس لئے ضبط نہ ہو سکا اور اونٹوں سے اتر کر فورا دوڑتے ہوئے آپ کے پاس پہنچے۔آپ نے فرمایا اونٹ باندھ آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں خدا کے تو گل پر کھلے ہی چھوڑ دیئے ہیں۔آپ نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹا باندھو پھر تو گل کرو۔تا یعنی عمل تم کرو اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دو۔مومن غیر مومن سے زیادہ کام کرتا ہے۔صحابہ کرام رات دن مشغول رہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عبادت کرتے تھے کہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کیوں اتنی دُعائیں کرتے ہیں کیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں کر دئیے آپ نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ہے اگر تو کل کے معنی یہ ہوتے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے تو سب سے زیادہ اس پر عمل رسول کریم اللہ کا ہونا چاہئے تھا کیونکہ آپ سب سے بڑھ کر متوکل تھے۔مگر آپ سب سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور کوئی فرصت کا وقت آپ کا نہیں ہوتا تھا۔پھر سب سے زیادہ تو کل تو جنت میں ہو سکتا ہے مگر قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہاں بھی مشغولیت ہو گی جیسے فرمایا۔