خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 551

خطبات محمود ۵۵۱ سال 1927ء بچہ ماں کے ہوتے ہوئے مایوس ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔بچہ رات کو ڈر کر چلاتا ہے مگر جب ماں محبت سے ہاتھ پھیر کر کہتی ہے میں پاس ہی ہوں تو چپ کر کے سو جاتا ہے۔اور یا تو وہ بلبلاتا ہوا اٹھا ہے یا ایسی آرام کی نیند سو جاتا ہے کہ گویا کوئی مصیبت اس پر آئی ہی نہیں مگر کیوں ؟ اس لئے کہ ماں نے اسے کہا کہ میں پاس ہوں۔حالانکہ ماں کی طاقت ہی کیا ہوتی ہے۔مگر بچہ اس کی ہمدردی اس کی محبت اور کسی قدر اس کی طاقت کو دیکھ کر اپنے آپ کو بالکل محفوظ سمجھ لیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ماں تو پھر بھی پرے ہوتی ہے مگر ہم تو انسان سے حبل الورید سے بھی قریب ہیں۔پھر کیوں انسان مایوس ہوتا ہے؟ ایک بچہ ماں کو پاس نہ سمجھ کر بلبلاتا ہے مگر ماں کو پاس پا کر اطمینان کی نیند سو جاتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ بندہ خدا کے ہوتے ہوئے بلبلاتا ہے اور جب خدا اتنا قریب ہے کہ اس کے ذاتی جسم کی حفاظت کی چیزوں سے بھی زیادہ قریب ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میرے لئے یہ مصیبت ہے یہ تکلیف ہے جب خدا اس کے اتنا قریب ہے تو پھر کیسی مصیبت اور کیسی آپ لوگ جو یہاں جمع ہوئے ہیں۔کسی غرض جلسہ پر آنے والوں کو کیا کرنا چاہئے؟ کے لئے ہی جمع ہوئے ہیں۔اور میں نے بتایا ہے لوگوں کی عموماً دو قسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں۔سوائے ان کے جن کو خداتعالی بچاتا ہے۔اور جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح حنیف ہو جاتے ہیں۔آپ لوگ جس کام کے لئے یہاں آئے ہیں۔اس طبعی میلان کے ماتحت جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ممکن ہے آپ میں سے بعض وہ ہوں جو سمجھتے ہوں ہم اس کے متعلق یوں کریں گے یا یوں کریں گے۔اور ممکن ہے بعض وہ ہوں جو سمجھتے ہوں ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ ہماری مثال تو اس پنجابی مثل کے مطابق ہے "ڈھائی بوٹیاں تے ہصتو باغبان " شیطان ہمارے مقابلہ پر کھڑا ہے اور اس کی ذریت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ملا کبھی یہ ممکن ہے کہ سب لوگوں کو ہم اپنا ہم خیال بنا لیں۔ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ کیا پدی اور کیا پڑی کا شور با۔ممکن ہے بعض لوگوں کے یہ خیال ہوں۔چونکہ جن لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ہوں وہ کوئی کام نہیں کر سکتے۔اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں دو تلواریں دی گئی ہیں ان کے ذریعہ جس کسی کے دل میں ان وسوسوں میں سے کوئی ہو وہ اس کو کاٹ ڈالے۔کیونکہ وہ وسوسہ ایک ہیبت ناک دیو ہے۔جو ان کی جان اور ایمان کو کھانے کے لئے آیا ہے۔پہلا وسوسہ جن لوگوں کے دلوں میں ہو وہ سمجھیں کہ خدا ہی ہے جو یہ کام کر سکتا بھلا۔