خطبات محمود (جلد 11) — Page 99
خطبات 99 ۱۴ سال 1927ء اتفاق و اتحاد کی برکات فرموده ۱۳/ مئی ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں آج ضرورت زمانہ کے لحاظ سے ایک اہم مضمون کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔لیکن بوجہ اس کے کہ میرے گلے میں کچھ تکلیف ہے۔جس کی وجہ سے نہ تو میری آواز پوری طرح نکل سکتی ہے اور نہ مجھے طبی لحاظ سے زیادہ زور سے بولنا جائز ہے۔اس لئے میں نہایت اختصار سے کام لینے کی کوشش کروں گا۔اور امید رکھوں گا کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں اسلام سے کچھ بھی محبت پائی جاتی ہے۔ہر وہ شخص جس کے دل میں مسلمانوں کی کچھ بھی الفت باقی ہے۔ہر وہ شخص جس کے دل میں قرآن کریم کے متعلق کوئی ادب و احترام باقی ہے۔اور ہر وہ شخص جس کے دل میں ملتِ رسول کریم ان کے متعلق کوئی در دباتی ہے۔وہ میرے ان کلمات کی طرف غور کے ساتھ اور تدبر الله سے توجہ کرے گا۔اور ان کے مطابق اپنے اندر اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اختلاف ہر جگہ پایا جاتا ہے۔کوئی دو وجود دنیا میں ایک جیسے نظر نہیں آتے۔بعض دفعہ انسانی آنکھ اور انسانی نظر اس اختلاف کو نہیں دیکھ سکتی۔جو دو ایک جیسی چیزوں میں ہوتا ہے لیکن خوردبین کے ذریعہ اگر ان کو دیکھا جائے تو ان کی شکلوں میں بھی سینکڑوں قسم کے اختلاف نظر آجائیں۔اسی طرح طبائع میں اختلاف ہوتا ہے۔میلانوں میں اختلاف ہوتا ہے۔طاقتوں میں اختلاف ہوتا ہے۔خواہ وہ طاقتیں جسمانی ہوں۔یا دماغی - عمروں ، شکلوں، قدوں میں اختلاف ہوتا ہے۔غرض کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی۔جس میں اختلاف نہ ہو۔لیکن باوجود اس اختلاف کے ہم آپس میں لڑتے بھڑتے نہیں۔کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے نہیں لڑتا اس وجہ سے کہ تیرا قد مجھ سے لمبا ہے یا چھوٹا ہے اسی طرح کوئی کسی سے نہیں لڑتا اس لئے کہ تیری شکل مجھے