خطبات محمود (جلد 10) — Page 8
8 میری حالت پر نظر کر کے اور میرے بعض افکار سے متاثر ہو کر میرے ساتھ ٹہلنے لگ گئے۔اور مجھے سے دریافت کیا کہ آپ اس طرح کیوں ٹہل رہے ہیں اس وقت جو خیالات اور افکار میرے قلب میں موجزن تھے میں ان سے متاثر ہو کر جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی انسان نہایت ہی متاثر کر دینے والے افکار اور جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔اور احساسات کو ابھارنے والے خیالات کی ادھیڑ بن میں ہوتا ہے تو بسا اوقات وہ اپنی طاقت کا ایک حصہ جذبات کے دبانے اور ان کے بخار بن کر آنکھوں کے رستہ ٹپک پڑنے کو روکنے کی کوشش میں صرف کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی اور شخص آ کر اس سے بات چھیڑ دیتا ہے تو چونکہ اسے اپنی توجہ کا ایک حصہ اس شخص کی طرف بھی لگانا پڑتا ہے۔اس لئے اس کا اپنی طبیعت پر سے قابو جاتا رہتا ہے اور جونہی وہ اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔اس وقت میں نے اپنی حالت کو ایسا ہی پایا۔میں سمجھا اگر میں ان کے سوال کا جواب دینے لگا تو اس کے ساتھ ہی مجھے اس وقت اپنے نفس پر جو قابو ہے وہ جاتا رہے گا اور جن جذبات کو میں نے روکا ہوا ہے وہ ایل پڑیں گے اور آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑیں گے۔یہ خیال کر کے میں نے ان کے سوال کا جواب دینے سے قبل چاہا کہ میں اپنے جذبات کو اس قدر دبالوں اور ان پر اتنا قابو پالوں کہ بغیر آنسوؤں کے ٹیکنے کے ان کو جواب دے سکوں۔میں اسی کوشش میں تھا کہ میں نے دیکھا۔ایک تیسرا شخص ہمارے درمیان آگیا اور اس نے بہت جلدی میری حالت کا اندازہ کر کے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کے کان میں کہنا شروع کیا کہ ان کی آنکھوں میں نمی ہے۔مجھے اس شخص کی یہ بات بہت بری معلوم ہوئی۔کیونکہ اس قسم کی حالت بھی ایک راز ہوتا ہے اور مجھے یہ گراں گزرا کہ اس نے اس راز کو کیوں ظاہر کر دیا۔پھر میں نے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کو جواب دینا شروع کیا۔میں نے انہیں کہا میرے افکار کا باعث یہ ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک رؤیا دیکھی ہے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پرانی رؤیا ہے جو ایک کاپی میں آج تک پوشیدہ تھی اور اس وقت میں نے دیکھی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ اس رڈیا کا میرے قلب پر اثر ہے۔جو نہی کہ میں یہ بات ان سے کہتا ہوں اور وہ رؤیا بیان کرتا ہوں۔اس رؤیا کے واقعات ظاہری طور پر آنکھوں کے سامنے سے اس طرح گزرتے جاتے ہیں جس طرح سنیما میں تصاویر حرکت کرتی ہیں۔بعینہ اسی طرح وہ سارا نظارہ جو رویا میں بیان ہوا آنکھوں کے سامنے گذرتا ہے۔اور اگرچہ میں نے وہ رڈیا کسی کاغذ یا کاپی پر لکھی ہوئی دیکھی تھی۔لیکن جب میں اسے بیان کرتا ہوں۔تو بعینہ وہی