خطبات نور — Page 651
651 میں نے کئی آدمیوں کو دیکھا ہے۔ان کو کسی برائی یا بد عادت سے منع کیا جاوے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتنی نیکیاں کرتے رہتے ہیں۔یہ بد عادت ہوئی تو کیا۔معلوم ہوتا ہے وہ بدی ان کو بدی نہیں معلوم ہوتی۔انبیاء اور خلفاء اور اولیاء اور ماموروں کی مخالفت کی یہی وجہ ہے۔یہ قرآن کریم آیا اور اس نے ان کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہی پہلے لوگوں سے بیان کیا کرتے تھے۔مگر جب قرآن شریف آیا كَفَرُوا بہ انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَافِرِينَ تو اللہ سے وہ بعید ہو گئے۔ایک آدمی جب جھوٹ بولنے لگتا ہے تو پہلے تو مخاطب کو کہتا ہے کہ میری بات کو جھوٹا نہ سمجھنا۔میں تمہیں سچ سچ بتاتا ہوں۔میں تو جھوٹے کو لعنتی سمجھتا ہوں۔مگر ہوتا در اصل وہ خود ہی جھوٹا ہے۔بِئْسَمَا اشْتَرَوُوا بِهِ انْفُسَهُمْ (البقرة:1) یہ بہت بری بات ہے۔وہ اللہ کا انکار کرتے ہیں صرف بغاوت کی وجہ سے۔داؤد و سلیمان کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کی اس وجہ سے ان پر لعنت پڑی اور وہ تتر بتر ہو گئے۔ہسپانیہ میں اللہ کی مخالفت ہوئی۔ان پر عذاب الہی نازل ہوا۔مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔صرف عمدہ عمدہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی گئی۔مگر ان کتابوں کے تینوں جہاز جو انہوں نے بھرے تھے بمع آدمیوں کے غرق کر دیئے گئے۔بغداد میں احکام الہی کا مقابلہ کیا گیا تو ان کا نام و نشان اٹھا دیا۔لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَرَبِّهِمْ (الانعام:۱۳۸) کے تفاول پر اس کا نام دار السلام رکھا گیا تھا۔یہودیوں نے مسیح کی مخالفت کی۔ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور ان پر غضب پر غضب نازل ہوا۔ان کی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر تم آخری نبی کو مان لو گے تو تم کو اجر ملے گا اور تم کو نجات دی جاوے گی۔مگر انھوں نے نہ مانا اس لئے ان کو عذاب مہین ہو گا۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ (البقرة:۹۲) اور جب ان کو کہا جاوے کہ اس کتاب کو مانو جس کو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اوپر اتاری گئی۔حالانکہ وہ بھی ایک حق ہے۔فرمایا اگر تم اس کو ماننے والے ہوتے تو تم نبیوں کا مقابلہ کیوں کرتے؟ وہ اگر کہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں سمجھتے تو فرمایا کہ موسیٰ بھی تو توحید لائے تھے۔تم نے ان کا کیوں انکار کیا اور ان کے پیچھے پیچھڑا بنا لیا۔اور اگر وہ کہیں کہ موسیٰ چلے گئے تھے ، ہمیں غلطی لگ گئی تو فرمایا وَإِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ (البقرة: ۹۴) کہ ہم نے تم سے پکا عہد لیا تھا جس کو تم نے توڑ دیا۔اچھا اگر تم عاقبت کو اپنے لئے سمجھتے ہو تو لڑائی میں اس کا پتہ لگ سکتا ہے۔آؤ لڑائی کر کے دیکھ لو۔