خطبات نور — Page 543
543 ایسے گھر میں پیدا کر دیتا جہاں قرآن دانی کا چر چانہ ہوتا۔پھر اگر کسی اچھے گھر میں پیدا ہونے پر جوانی میں مر جاتے تو آج تم کو قرآن سنانے کا کہاں موقع ملتا۔اس نے کیسے کیسے فضل کیے۔فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بصِيرًا ہم نے اپنے فضل سے اس نطفہ کو جس میں ہزاروں چیزیں ملی ہوئی تھیں ، سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔اب مسلمان کہتے ہیں کہ تجارت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔کبھی کہتے ہیں حکومت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔صرف سو برس کے اندر ہی اندر انہوں نے سب کچھ اپنا کھو دیا۔شرک کا کوئی شعبہ نہیں جس میں مسلمان گرفتار نہیں۔نماز روزے اعمال صالحہ میں، قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں نہایت ہی سست ہیں۔کوئی ملاں ہو اور وہ خوب شعر سنائے تو کہتے ہیں کہ فلاں مولوی نے خوب وعظ کیا۔کسی عورت نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں عورت ایک عرس میں گئی تھی۔وہ کہتی تھی کہ سبحان اللہ ! ہر طرف نور ہی نور برس رہا تھا۔میں نے کہا وہ کیا تھا؟ کہنے لگی کہ وہ کہتی تھی کہ اندر بھی، باہر بھی مراثی ڈھولک بجا رہے تھے اور خوب خوش الحانی سے گارہے تھے۔ریل میں مجھے ایک کنچنی ملی۔میں نے اس سے کہا کہ تو کہاں گئی تھی؟ کہا کہ سبحان اللہ ! فلاں حضرت کے یہاں گئی تھی۔انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ ہماری فقیرنی آگئی ہے اور اپنے خادم سے کہا اس کو تین سو روپیہ دے دو۔میں تو ایک دم مالا مال ہو گئی۔مسلمانوں میں تکبر بڑھ گیا۔ستی ہے۔فضول خرچی ہے اور فضول خرچی کے ساتھ تکبر بھی از حد بڑھ گیا ہے۔اپنی قیمت بہت بڑھا رکھی ہے۔سمجھتے ہیں کہ ہم تو اس قدر تنخواہ کے لائق ہیں۔ہم نے انسان پر بڑے فضل کئے۔فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا یہاں تک کہ انسان کو دیکھنے والا سننے والا بنایا۔پھر قرآن کے ذریعہ سے اس پر ہدایت کی راہیں کھول دیں إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ۔پر کسی نے قدر کی اور کسی نے نہ کی إِمَّا شَاكِرَ اوَّ إِمَّا كَفُورًا۔کوئی مسلمان کہتا ہے کہ جھوٹ جائز ہے۔کوئی مسلمان کہتا ہے کہ تکبر اور فضول اور قسم قسم کی بد کاریاں جائز ہیں۔برائی سب جانتے ہیں مگر افسوس کہ قدر نہیں کرتے۔دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں مگر خود عمل نہیں کرتے۔ایک عورت کا میاں شراب پیتا تھا۔اس کو میں نے کہا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔تم اس سے شراب چھڑا دو۔اس نے کہا میں نے ایک روز اس کو کہا تھا تو اس نے مجھے جواب دیا کہ یہ تجھے نور الدین