خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 703

خطبات نور — Page 481

481 عاقبت اندیشی کی ضرورت ہے۔چنانچہ انہی کی مدد سے چھوٹے چھوٹے جتنے پیسے بنتے ہیں وہ عالی شان بنتے ہیں۔مثلاً چکی پینا ایک ذلیل کسب تھا۔علم کے ذریعے ایک اعلیٰ پیشہ ہو گیا۔یہ جو بڑے بڑے ملوں کے کارخانے والے ہیں دراصل چکی پینے کا ہی کسب ہے اور کیا ہے۔ایسا ہی گاڑی چلانا کیا معمولی کسب تھا۔گاڑی چلانے والا ہندوستان میں لنگوٹ باندھے ہو تا تھا۔اب گاڑی چلانے والے کیسے عظیم الشان لوگ ہیں۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے۔حجام کا پیشہ کیسا ادنی سمجھا جاتا ہے۔یہی لوگ مرہم پٹی کرتے اور ہڈیاں بھی درست کر دیتے ہیں۔اسی پیشے کو علم کے ذریعے ترقی دیتے دیتے سرجری تک نوبت پہنچ گئی ہے اور سرجن بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے۔میں نے تاجروں پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ سر پر بوجھ اٹھائے دیمہ بدیعہ پھر رہے ہیں۔رات کسی مسجد میں کاٹ رہے ہیں مگر اب تو تجارت والوں کے علیحدہ جہاز چلتے ہیں۔وہ حکومت بھی دیکھی ہے کہ دس روپے لینے ہیں اور ایک زمیندار سے دھینگا مشتی ہو رہی ہے۔یا اب منی آرڈر کے ذریعے مالیہ ادا کر دیتے ہیں۔سنسان ویران جنگلوں کو آباد کر دیا گیا ہے۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے کہ اس سے ادنی چیز اعلیٰ ہو جاتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جسم کے علاوہ کچھ اور بھی عطا کیا ہے۔یہ آنکھیں نہیں دیکھتیں جب تک اندر آنکھ نہ ہو۔زبان نہیں بولتی جب تک اندر زبان نہ ہو۔کان نہیں سنتے جب تک اندر کان نہ ہوں۔مگر یہ تو کافر کو بھی حاصل ہے۔اس کے علاوہ ایک اور آنکھ و زبان و کان بھی ہیں جو مومن کو دیئے جاتے ہیں۔یہ وہ آنکھ ہے جس سے انسان حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہے۔حق و باطل کا شنوا ہو سکتا ہے۔حق و باطل کا اظہار کر سکتا ہے۔اگر انسان حق کا گویا وشنوا و بینا نہ ہو تو صُمٌّ بُكْمٌ عُمْى (البقرة:) کا فتویٰ لگتا ہے۔اللہ جل شانہ جس کو آنکھ دیتا ہے وہ ایسی آنکھ ہوتی ہے کہ اس سے خدا کی رضا کی راہوں کو دیکھ لیتا ہے۔پھر ایک آنکھ اس سے بھی تیز ہے جس سے مومن اللہ کی راہ پر علی بصیرت چلتے ہیں۔پھر اس سے بھی زیادہ تیز آنکھ ہے جو اولوالعزم رسولوں کو دی جاتی ہے۔ان حواس کے متعلق اللہ اپنے پاک کلام میں وعظ کرتا ہے۔دیکھو آج لوگوں نے کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کیا ہے۔غسل کیا ہے۔لباس حتی المقدور عمدہ دنیا پہنا ہے۔خوشبو لگائی ہے۔پگڑی سنوار کر باندھی ہے۔یہ سب کچھ کیوں کیا؟ صرف اس لئے کہ ہم باہر بے عیب ہو کر نکلیں۔بہت سے گھر ایسے ہوں گے جہاں بیوی بچوں میں اسی لئے جھگڑا بھی پڑا ہو گا اور اس جھگڑے کی اصل بناء یہی ہے کہ بے عیب بن کر باہر نکلیں۔3'