خطبات نور — Page 464
464 اس کلمہ کے دو حصے ہیں۔ایک میں لا الہ دوسرے میں الا اللہ ہے۔پہلا حصہ انسان کے گناہوں کے دور کرنے کا اور دوسرا حصہ نیکیوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔اس کلمہ کے ساتھ حضرت نبی کریم ملی ہم نے اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کا جملہ اس لئے لگایا کہ زمانہ گزشتہ میں آپ نے دیکھ لیا تھا کہ پہلے بادیوں کو لوگوں نے معبود بنا لیا تھا اس لئے رسول اللہ ملی تو ہم نے اس توحید کی تکمیل کے لئے کہ خدا کی معبودیت میں کوئی دوسرا شریک نہ کیا جاوے بلکہ مجھے عبد سمجھیں ، یہ کلمہ بڑھا دیا تا میری قوم وہ نہ کرے جو پہلی قوموں نے کیا۔میں اس جزو کو اس توحید کا متم یقین کرتا ہوں اور یہ سچ ہے کہ اس جزو کے سوا حقیقت میں مومن کامل نہیں بن سکتا۔جب اللہ تعالیٰ پر انسان ایمان لاتا ہے جو لا اله الا اللہ کا منشاء ہے تو اسماء الہی کا مطالعہ کرنے سے ملائکہ انبیاء تقدیر حشر نشر پل صراط جنت و نار پر ایمان لانا لازم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ خدا کی صفات ہیں کہ تقدیر اس نے بنائی۔جنت و نار کو بنایا۔پس جو کوئی لا ال DAWATAN ANLAND پر ایمان لاتا ہے اس کے لئے لابد ہے کہ خدا کے اسماء وصفات پر ایمان لائے۔تب اس کو انبیاء حشر و نشر ملائکہ کتب پر ایمان لانا ضروری ہو جاتا ہے۔قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (الانعام:۹۳)۔انسان جب اللہ پر ایمان لاتا ہے تو آخرت پر ایمان لے آتا ہے اور جزا و سزا کے اعتقاد کے بعد ضرور ہے کہ قرآن اور رسول کریم صلی اللہ پر ایمان لائے جس کے ساتھ ملائکہ وکتب کا ایمان بھی آگیا اور پھر مومن نماز کا پابند ہو جاتا ہے۔پس جو لا اله الا الله کا دعویٰ کرے بایں ہمہ نماز کا تارک رہے اور قرآن شریف کی اتباع میں ستی کرنے حقیقت میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے دعوئی میں سچا نہیں جیسا کہ یہ آیت ایؤمنونہ یہ ظاہر کرتی ہے کیونکہ حضرت نبی کریم کا تذکرہ اس کلمہ میں موجود ہے۔ضرورت پڑی کہ ہم کوئی ایسا لفظ کہیں کہ رسول اللہ مال لال لال میں کس درجہ کا انسان تھا۔رسول اللہ مال کے درجہ کا پتہ لگانا اس کے واسطے یہ آیتیں سامنے رکھنی چاہئیں۔(۱) إِنَّكَ لَعَلَى صلی علیہ ودم خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:۵) اور دوسری میں فرماتا ہے۔وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء:۴) اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کو عظیم فرماتا ہے اور ان پر جو فضل ہوا اسے بھی عظیم فرمایا۔اب خیال کرو کہ جس کو خدا تعالیٰ نے عظیم کہا وہ کس قدر عظیم ہو گا۔اب جو رسول اس