خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 387 of 703

خطبات نور — Page 387

387 اللہ جل شانہ نے ان آیات میں چند باتیں بطور نصیحت فرمائی ہیں۔پہلی بات:۔بہت سے لوگ جن کے دلوں میں کینہ اور عداوت ہوتی ہے تو اپنے حریف کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں جن میں ایک پہلو بدی کا بھی ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرپوک ہوتے ہیں۔کھل کر کسی کو برا نہیں کہہ سکتے۔راعِنَا۔ایک لفظ ہے۔اس کے کئی معنے ہیں۔یہ رعونت، بڑائی خود پسندی، حماقت کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ آپ ہماری رعایت کریں۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ سکھایا ہے کہ ایسا لفظ اپنے کلام میں اختیار نہ کرو جو ذو معنی ہو بلکہ ایسے موقعہ پر انظرنا کہا کرو۔اس میں بدی کا پہلو نہیں ہے۔ایک شخص نے مجھ سے اصلاح کا ثبوت قرآن مجید سے پوچھا۔میں نے یہی آیت پڑھ دی۔اللہ تعالیٰ یہ نصیحت فرما کر متنبہ کرتا ہے کہ جو لوگ انکار پر کمر باندھے ہیں اور حق کا مقابلہ کرتے ہیں وہ دکھ درد میں مبتلا رہتے ہیں۔اس سے آگے عام کافروں کا رویہ بتایا ہے کہ یہ اہل کتاب اور مشرکین تمہارے کسی سکھ کو محض از روئے حسد دیکھ نہیں سکتے۔اس حسد سے ان کو کچھ فائدہ سوا اس کے کہ جل جل کر کباب ہوتے رہیں نہیں پہنچ سکتا۔یہ حسد بڑا خطرناک مرض ہے، اس سے بچو۔اللہ تعالیٰ کے علیم و حکیم ہونے پر ایمان ہو تو یہ مرض جاتا رہتا ہے۔دیکھو ململ کا کپڑا ہے۔کوئی اسے سر پر باندھتا ہے۔کوئی اس کا قمیص بناتا ہے۔کوئی زخموں کے لئے پٹی۔سب جگہ وہ کام دیتا ہے اور سبھی جگہ واقعہ میں اس کی ضرورت ہے۔اسی طرح اگر انسان سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے عجائبات قدرت سے جو کام ہو رہے ہیں وہ بلا ضرورت و حکمت کے نہیں تو معترض کیوں ہو؟ اگر خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو اپنی رحمت خاصہ کے لئے چن لیا ہے تو یہ کیوں جلتے ہیں۔یہ تو عام قانون قدرت ہے کہ آج ایک درخت بغیر پھول اور پھل پتوں کے بالکل سوختنی ہیئت میں کھڑا ہے۔اب بہار کا موسم آیا تو اس میں پتے لگنے شروع ہوئے۔پھر پھول پھر پھل۔اسی طرح قوموں کا نشوونما ہے۔ایک وقت ایک قوم برگزیدہ ہوتی ہے لیکن جب وہ انعامات کے قابل نہیں رہتی تو خدا تعالیٰ دوسری قوم کو چن لیتا ہے اور وہ پہلی قوم ایسی مٹ جاتی ہے کہ بالکل بھلا دی جاتی ہے یا اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔غرض اس جہان میں اس طرح بہت تغیر ہوتے رہتے ہیں۔ایک شریعت دی جاتی ہے پھر اس کی بجائے دوسری۔اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کوئی نشان قدرت نہیں بدلتے اور نہ اسے ترک کرتے ہیں مگر کہ اس کی مثل یا اس سے اچھا لاتے ہیں۔کیا تم کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز