خطبة اِلہامِیّة — Page 92
خطبه الهاميه ۹۲ اردو ترجمہ وفجرت البحار وفتحت الطرق گرہن لگا اور نہریں جاری ہوئیں اور وزوجت بنفوسكم نفوس بلادٍ راستے کھل گئے اور ولایتوں کے لوگ قصوى۔وان الجبال نسفت آپس میں ملنے لگے اور پہاڑ اپنی جگہ اكثرها فما ترون فيها عوجا ولا سے ہل گئے کہ کوئی اونچائی نچائی باقی نہ امتا۔وتركت القلاص فلا يحمل رہی اور اونٹ سواری اور بار برداری عليها ولا يُسعى۔فثبت ان سے متروک ہو گئے۔اس سے ثابت ہو گیا زماننا هذا هو آخر الازمنة التي کہ یہ زمانہ وہی آخری زمانہ ہے کہ جس ذكرت في القرآن وتَعَيَّنَ ان کا ذکر قرآن میں ہے اور مقرر ہو گیا کہ هذا الوقت هو وقت اخر یہ وقت وہی وقت ہے کہ جس میں خان الخلفاء لأمة نبينا خير الورى۔خلفاء کا مبعوث ہونا ضروری تھا اور وقد بلغ الثبوت كماله وما غادر اس امر کا ثبوت اپنے کمال کو پہنچ گیا اور الله شكا ولاريبا۔وانا مُلئنا فيه خدا تعالیٰ نے کوئی شک اس میں باقی نہ معرفة وعلما تاما و نورًا مُبِينًا رکھا اور ہم اس امر میں اس قدر حتى لورفع الحجاب لما ازددنا معرفت دیئے گئے ہیں کہ اگر درمیان يقينًا۔أترون من دونی فی هذا سے پردہ اٹھ جائے تو ہمارا یقین زیادہ الأوان رجلا يقول انی انا نہیں ہوتا۔آیا میرے سوا کسی شخص کو اس المسيح الموعود ویاتی کمثلی زمانہ میں دیکھتے ہو جو کہے کہ میں مسیح موعود بايات كبرى۔فمالكم لا تقبلون ہوں اور میری طرح بڑے بڑے نشان من جاء كم على وقته واراكم لایا ہو۔تمہیں کیا ہو گیا جو تم اس کو قبول من الآيات ما ارى۔وقدجاء نہیں کرتے کہ عین اپنے وقت پر آیا اور على اجل بعد نبيه المصطفى بہت سے نشان دکھلائے اور اس وقت آیا كمثل اجل بعث المسيح فيه كہ وہ اس زمانہ کا مشابہ ہے کہ جس زمانہ کہ