خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 35

خطبه الهاميه ۳۵ بقیه حاشیه گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے وہ دمشق سے ٹھیک ٹھیک شرقی جانب پڑی ہے۔اخ و پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ منارہ مسیح بھی دمشق سے شرقی جانب واقع ہے۔ہر ایک طالب حق کو چاہیے کہ دمشق کے لفظ پر خوب غور کرے کہ اس میں حکمت کیا ہے کہ یہ کے طور پر بیت المقدس کی طرف گیا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام اسرائیلی نبیوں کے کمالات بھی موجود ہیں۔اور پھر اس جگہ سے قدم آنجناب علیہ السلام زمانی سیر کے طور پر اس مسجد اقصٰی تک گیا جو مسیح موعود کی مسجد ہے یعنی کشفی نظر اس آخری زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ کہلاتا ہے پہنچ گئی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو کچھ مسیح موعود کو دیا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔اور پھر قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی سیر کے طور پر اوپر کی طرف گیا اور مرتبہ قَابَ قَوْسَيْن کا پایا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر صفات الہیہ اتم اور اکمل طور پر تھے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قسم کا معراج یعنی مسجد الحرام سے مسجد اقصٰی تک جو زمانی مکانی دونوں رنگ کی سیر تھی اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف ایک سیر تھا جو مکان اور زمان دونوں سے پاک تھا۔اس جدید طرز کی معراج سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین والآخرین ہیں اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف سیران کا اس نقطہ ارتفاع پر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی انسان کو گنجائش نہیں۔مگر اس حاشیہ میں ہماری صرف یہ غرض ہے کہ جیسا کہ آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں کشفی طور پر لکھا گیا تھا کہ قرآن شریف میں قادیاں کا ذکر ہے۔یہ کشف نہایت صحیح اور درست تھا کیونکہ زمانی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج رخ ) اور مسجد اقطعے کی طرف سیر مسجد الحرام سے شروع ہو کر یہ کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ایسی مسجد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر تسلیم نہ کیا جائے جو باعتبار بعد زمانہ کے مسجد اقضی ہو۔اور ظاہر ہے کہ مسیح موعود کا وہ زمانہ ہے جو اسلامی سمندر کا بمقابلہ زمانہ