خطبة اِلہامِیّة — Page 228
خطبة الهامية ۲۲۸ اردو ترجمہ النفس بالنفس والعرض بدلے نفس اور عزت کے بدلہ عزت کا انتقام لیا بالعرض ، وتُشرِق الأرض بنور جائے گا۔زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے ربها، و تهوی عدو صفی الله گی۔آدم صفی اللہ کا دشمن ہلاک ہو جائے گا۔اور وکذالک جزاء عداوة الأصفياء برگزیدہ بندوں سے دشمنی کی سزا ایسی ہی ہوتی وكان هذا الفتح حقًا واجبا لآدم ہے۔یہ فتح آدم کا واجب حق تھا کیونکہ بعد اس کے بما أذله الشيطان، فی حلیة کہ اللہ نے اسے عزت و شرف بخشا تھا شیطان نے الثعبان، وألقاه في مغارة الهوان اثردھا کے روپ میں اسے پھسلا دیا تھا اور اس کو قعر وهدم بعدما أعزه الله وأكرم نذلت میں ڈال دیا تھا اور اس کی کمر توڑ دی تھی۔وما قصد إبليس إلا قتله وإهلاكه ابليس نے آدم کو قتل کرنے ہلاک کرنے اور اس کی واستيصاله، وأراد أن يعدمه بیخ کنی کرنے کا ہی قصد کیا تھا اور چاہا تھا کہ اسے وذريته و آله، فكُتب علیه حکم اور اس کی ذریت اور اس کے خاندان کو نابود کر القتل من ديوان قضاء الحضرة دے۔پس حضرت باری تعالیٰ کی قضا کے دفتر سے بعد أيام المهلة، وإليه أشار اس کے خلاف ایام مہلت کے بعد قتل کئے جانے کا سبحانه في قوله إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ حکم صادر ہوا۔اسی کی طرف اللہ سبحانہ نے كما يعلمه المتدبّرون۔و اپنے قول إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ میں اشارہ فرمایا ہے ما عُنِي بهذا القول بعث جیسا کہ تدبر کرنے والے جانتے ہیں۔اس قول الأموات، بل أُريد فيه بعث سے حقیقی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا مراد نہیں بلکہ اس الضالين بعد الضلالات۔ویؤیدہ سے گمراہوں کو گمراہیوں کے بعد دوبارہ زندگی دیئے قوله تعالی فی القرآن جانا مراد ہے۔اس کی تائید قرآن مجید میں اللہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔کا قول لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ل كمالا يخفى على أهل العقل کرتا ہے جیسا کہ اہل عقل وعرفان پر پوشیدہ والعرفان۔فإن إظهار الدين على نہیں۔یقیناً کسی دین کا دیگر ادیان پر غلبہ لے تا وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے(الصف: ۱۰)