خطبة اِلہامِیّة — Page 7
خطبة الهاميه اردو ترجمہ۔الكلام ان النصاری لمّا اذاهم عیسائیوں کو تکلیف دی اور یہود نے ان کے طول مكثهم فى المصائب معاملہ میں زبان درازی کی اور انہیں خائب واطال اليهود السنهم في امرهم وخاسر جانا۔تو یہ تمسخر ان پر بہت گراں گزرا وحسبوهم كالخاسر الخايب تو انہوں نے یہ دو مذکورہ عقیدے گھڑے شق عليهم هذا الاستهزاء۔تا که دشمن خاموش ہو جائیں۔اور یہ انسانی فنحتوا العقيدتين المذكورتين عادات میں سے ہے کہ وہ محرومی کی ہواؤں ليسكت الاعداء۔وان من کے چلنے کے وقت خواہشات کا سہارا لیتا عادات الانسان۔انه يتشبث ہے۔اور جب وہ دیکھتا ہے کہ امید کی کوئی بامانی عند هبوب ریاح کرن باقی نہیں رہی تو وہ اپنے نفس کو الحرمان۔واذا رأى انه مابقی له خواہشات سے خوش کرتا ہے۔اور وہ اس چیز کو اب کے مقام رجاء۔فيسر نفسه بأهواء۔طلب کرتا ہے جو نہ کبھی ذہنوں میں آئی اور نہ فيطلب ما ند عن الاذهان۔وشدّ كانوں نے سنی۔پس کبھی وہ اموال کے ختم عن الأذان۔فقد يطلب الكيمياء ہونے پر کیمیا طلب کرتا ہے اور کبھی وہ ستاروں عند نفاد الاموال۔وقد يتوجه کو مسخر کرنے اور عملیات کی طرف متوجہ ہوتا الى تسخير النجوم والاعمال ہے۔اور اسی طرح نصاریٰ کا حال ہے کہ و کذالک النصاری اذا وقع جب ان کو دشمنوں کے قول کی زد پہنچی اور عليهـم قـول الاعداء۔وما كان اس بلا سے راہِ فرار باقی نہ رہی تو جو انہوں مَفَرٌّ من هذا البلاء۔فنحتوا نے تراشا سو تراشا اور انہوں نے مـانـحـتـوا واتكئوا علی الامانی خواہشات کا سہارا لیا جیسا کہ قیدی واسیر کی كماهو سيرة الاسير والعانی عادت ہے۔پس انہوں نے یہ دو مذکورہ فاشاعوا الاصولين المذكورين اصول پھیلا دیئے جیسا کہ تو دیکھتا اور جانتا ہے كما تعلم وترى۔ووفوا حق اور اندھے ہونے کا پورا حق ادا کیا۔اور جب