دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 542
542 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کمالات سے بھر پور کر دیا تھا یعنی حضرت علی اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ نبوی کمالات سے بھی ممتاز ہو گئے تھے۔سرور کائنات کے بعد کائناتِ عالم میں صرف ایک علی کی ہستی تھی جو کمالات انبیاء کی حامل تھی۔آپ کے بعد سے یہ کمالات اوصیاء میں منتقل ہوتے ہوتے امام مہدی تک پہنچے۔“ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ ان احباب کے نزدیک نہ صرف حضرت علی بلکہ دیگر ائمہ اطہار میں تمام انبیاء کے کمالات جمع ہو گئے تھے۔اس صورت میں یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ ائمہ انبیاء سے افضل تھے۔اس کے بعد اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں پر اعتراض بے معنی ہے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل ٹھوس حقائق پیش کرنے کی بجائے شعر و شاعری کا سہارا لے کر اپنی تقریر کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے اس وقت ہندوستان میں قائم برطانوی حکومت کی تعریف میں اور حکومتِ وقت کی وفاداری کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ حوالے پڑھ کر یہ شعر پڑھا بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے اگر کفر کا یہی معیار ہے تو اس سے بہت زیادہ تعریف اپنی درخواستوں ، اپنی تقریروں، اپنے شعروں اور اپنی معروضات میں سر سید نے بھی کی ہے ، علامہ اقبال نے بھی کی ہے ، قائد اعظم نے بھی کی ہے بلکہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم لیگ نے بھی مجموعی طور پر کی ہے۔ہندوستان کے علماء نے جن میں احمد رضا خان صاحب، نواب صدیق حسن خان صاحب ، علامہ حائری صاحب ، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور علماء دیو بند بھی شامل ہیں اس سے بہت زیادہ تعریف کی ہے اور ہندوستان کے ان لاکھوں مسلمانوں کے متعلق کیا خیال ہے جنہوں انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر اپنی جانیں دیں ، ان کی خاطر دور دراز کا سفر کر کے جنگیں لڑیں اور مسلمانوں پر بھی گولیاں چلائیں۔ہم پہلے بھی اس کے کئی حوالے درج کر چکے ہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اگر کوئی اپنی تاریخ سے واقف نہ ہو تو اس کا مواد اتنا ہے کہ کئی کتابوں میں بھی نہیں سما سکتا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ماحول کو جذباتی بنانے کے لئے کہا کہ جب بھی مسلمان ناخوش ہوتے تھے اس وقت قادیانی خوش ہوتے تھے اور اس کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلی جنگ عظیم کے موقع