دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 341 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 341

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 341 اسی حدیث میں حضرت عیسی کو نبی اللہ کہا۔اور دوسری جگہ فرمایا فَيَرْغَبُ نَبِيُّ الله اس پر حضرت عیسی کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور تم اس سے نفلی نبوت کرتے ہو۔ہے جواب یہ ہے کہ ہم وحی شریعت کی نفی کرتے ہیں نہ الہام الہی کی اور ہم آخر زمانے میں یعنی آنحضرت صلی للعلم کے حکم نبوت کی نفی کرتے ہیں نہ اسم نبوت کی“ (عقائد مجددیہ اسمی به القِرَاطُ السَّوِی ترجمہ عقائد توریشی مصنفہ علامہ شہاب الدین تور پیشی۔ناشر اللہ والے کی قومی دوکان ص224) ملا علی قاری اپنی کتاب الموضوعات الکبیر میں تحریر کرتے لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَ صَارَ نَبِيًّا ، لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلَامُ كَعِيْسَى وَالْخِضْرِ وَالْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلُهُ تَعَالَى وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَه يَنْسَخُ مِلَّتَه وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِه “ " ترجمہ : اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے اور اسی طرح اگر (حضرت ) عمرہ بھی نبی بن جاتے تو وہ دونوں حضرت عیسی۔حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح آنحضرت صلی ال نیم کے تابع ہوتے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے قول و خاتم النبیین کے مخالف نہیں ہے۔اس کے معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔“ الموضوعات الكبير مصنفہ ملا علی قاری ناشر نور محمد اصبح المطابع آرام باغ کراچی ص100) امام عبد الوہاب شعرانی” تحریر کرتے ہیں