دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 1
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 1 بِسْمِ اللوا الرَّحْمَنِ حرف آغاز دنیا کی آئینی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ 1974ء میں پاکستان کے آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم بہت سے پہلوؤں سے دنیا کی آئینی تاریخ کا ایک انوکھا فیصلہ تھا۔اس آئینی ترمیم کے ذریعہ سے بزعم خود یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک گروہ کو کس مذہب کی طرف منسوب ہونے کا حق ہے اور اس گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہئیے ؟ اس ترمیم سے قبل اس مسئلہ پر غور کے لئے پاکستان کی پوری قومی اسمبلی کو ایک سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس سپیشل کمیٹی نے اس مسئلہ پر غور شروع کیا۔شروع ہی سے یہ قاعدہ بنا دیا گیا تھا کہ اس کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی اور بار بار اس کا اعادہ کیا گیا اور یہ یقینی بنایا گیا کہ اسمبلی ہال کے باہر کسی کو اس کارروائی کی حقیقت کا علم نہ ہو سکے۔اس کارروائی کے دوران جماعت احمدیہ کا وفد بھی گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا اور اس سپیشل کمیٹی کے سامنے جماعت احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ کی صورت میں پڑھا گیا اور جماعت احمدیہ کا یہ موقف پیش کیا گیا کہ قانون کی روسے، عقل کی رو سے اور قرآنی تعلیمات اور احادیث نبویہ کی رو سے دنیا کی کوئی بھی پارلیمنٹ یا اسمبلی اس سوال کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔اس کے بعد ممبرانِ قومی اسمبلی نے گیارہ روز تک جماعت احمدیہ کے وفد سے سوالات کئے۔ان سوالات اور ان کے جوابات کا تجزیہ تو ہم بعد میں پیش کریں گے لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کارروائی کے دوران ہی اس کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے حوالے سے ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ انصاف کے معروف تقاضے پورے نہیں کئے جار ہے۔دنیا بھر کی عدالتوں میں یہ طریقہ کار ہے کہ جب کوئی گواہ بیان دیتا ہے تو اس کے بیان کا تحریری ریکارڈ گواہ کو سنایا جاتا ہے اور دکھایا جاتا ہے اور وہ اس بیان کو تسلیم کرتا ہے تو پھر یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔لیکن اس کارروائی کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے فرمایا کہ ہمیں بھی اس کی کاپی دی جائے لیکن انکار کیا گیا اور ایک ممبر اسمبلی کی طرف سے بھی یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا جماعت احمدیہ کے وفد کو اس کی کاپی دی جائے گی تو سپیکر صاحب نے کہا