دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 292
292 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے علاوہ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف جریدے ”اہلحدیث ، کی ایک اشاعت کا حوالہ پڑھ کر سنایا۔یہ حوالہ 31 مارچ 1939ء کی اشاعت سے تھا۔اس اشاعت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔ہم ان خیالات کے چند نمایاں پہلو پیش کرتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کہ صحیح خود اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے۔66 ظاہر ہے کہ اجنبی عورت بلکہ فاحشہ اور بد چلن عورت سے سر اور پاؤں کو ملوانا اور وہ بھی اس کے بالوں سے ملا جانا کس قدر احتیاط کے خلاف کام ہے۔اس قسم کے کام شریعت الہیہ کے خلاف صریح خلاف ہیں۔۔۔ان حالات میں مسیح کی شراب سازی خلاف شریعت فعل ہے۔انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے کذب کو روا رکھا۔ہمیں انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اپنی والدہ کی تعظیم نہیں کرتے تھے" ( اہلحدیث 31 / مارچ 1939ء۔ص8و9) جن کی اپنی تحریروں میں یہ مواد پایا جاتا ہو حیرت کا مقام ہے کہ وہ کس منہ سے حضرت مسیح موعود ہ السلام کی تحریروں پر اعتراض کر رہے تھے۔اس کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثالث نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ حوالے سنائے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی شان کے بارے میں ہیں۔علیہ اس بیان کے اختتام پر حضور نے فرمایا کہ میں تھکاوٹ محسوس کر رہا ہوں باقی کل کر لیا جائے۔اس پر اس سیشن کا اختتام ہو گیا۔اسمبلی ممبران میں جماعت کے مخالفین دلائل دینے کی بجائے کس ذہنیت کے ساتھ کارروائی چلانا چاہتے تھے اس کا اندازہ ایک ممبر محمود اعظم فاروقی صاحب کی اس تجویز سے ہوتا ہے جو انہوں نے اس وقت سپیکر صاحب کو دی۔انہوں نے سپیکر صاحب کو کہا کہ جماعت کے وفد کو رات کے بارہ بجے تک بٹھا کر سوالات کریں۔ہم بھی بیٹھیں گے۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ گواہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اور