دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 285
285 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”آپ چیک کر سکتے ہیں۔The books have been available for the last ten days یعنی دس روز سے یہ کتابیں یہاں پر دستیاب ہیں اور ظاہر ہے کہ جب دس روز سے یہ کتب وہاں پر موجود تھیں جس کتاب کی جس جگہ سے حوالہ پیش کرنا مقصود تھا اس پر نشان لگا کر پیش کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔نورانی صاحب نے کچھ حیرت سے کہا:۔وو لیکن کتابیں موجود ہیں۔حوالے سب پر لگے ہوئے ہیں۔سب موجود ہیں۔۔۔66 سپیکر صاحب کی جھنجلاہٹ جاری تھی وہ کہنے لگے You should check it up۔یعنی آپ کو چاہئے کہ اسے چیک کریں۔اس پر نورانی صاحب فرمانے لگے صرف چھاپے خانے کا فرق ہوتا ہے“۔اب ظاہر ہے کہ اگر ایک ایڈیشن کا حوالہ دیا جائے گا اور دوسرے ایڈیشن کی کتاب ڈھونڈ کر اس صفحہ پر حوالہ ڈھونڈا جائے گا تو اس خفت کو تو بھگتنا پڑے گا۔اس لئے حوالہ دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ حوالہ کس ایڈیشن سے نوٹ کیا گیا ہے اور سامنے کون سا ایڈیشن موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے تو یہ مشکل ہونی ہی نہیں چاہئے تھی کیونکہ جب روحانی خزائن کے نام سے کتب کا مجموعہ شائع ہوا تو اس میں پہلے ایڈیشن کے صفحات کے نمبر بھی ایک طرف لکھے ہوئے ہوتے تھے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ صرف مختلف ایڈیشن کا معاملہ نہیں تھا کئی مرتبہ غلط حوالے پیش کئے جا رہے تھے۔