خدا کی قسم — Page 19
19 ایک شیطان اور عنتی کا کام ہے کہ ایسا ہی ظہور میں آیا“ (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 218) تب اُسی وقت غنودگی ہوکر یہ دوسرا الہام ہوا الیس الله بکاف عبدہ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔درحقیقت یہ امر بار با آزمایا گیا ہے کہ وہ الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعوی الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے الہام طنی امور ہیں نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی ایسے الہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اِن الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“ (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219-220) ۱۰۵۔ایک سو پانچواں نشان۔ایک دفعہ میرے بھائی مرز اغلام قادر صاحب مرحوم کی نسبت مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ان کی زندگی کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن ہیں بعد میں وہ یک دفعہ سخت بیمار ہو گئے یہاں تک کہ صرف استخوان باقی رہ گئیں اور اس قدر ڈبلے ہو گئے کہ چار پائی پر بیٹھے ہوئے نہیں معلوم ہوتے تھے کہ کوئی اس پر بیٹھا ہوا ہے یا خالی چار پائی ہے پاخانہ اور پیشاب او پر ہی نکل جاتا تھا اور بیہوشی کا عالم رہتا تھا۔میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم بڑے حاذق طبیب تھے انہوں نے کہہ دیا کہ اب یہ حالت پاس اور نومیدی کی ہے صرف چند روز کی بات ہے مجھ میں اس وقت جوانی کی قوت موجود تھی اور مجاہدات کی طاقت تھی اور میری فطرت ایسی واقع ہے کہ میں ہر ایک بات پر خدا کو قادر جانتا ہوں اور درحقیقت اس کی قدرتوں کا کون انتہا پاسکتا ہے اور اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں بجز ان امور کے جو اس کے وعدہ کے برخلاف یا اُس کی پاک شان کے منافی اور اُس کی توحید کی ضد ہیں۔اسلئے میں نے اس حالت میں بھی اُن کے لئے دعا کرنی شروع کی اور میں نے دل میں یہ مقرر کر لیا کہ اس دُعا