خُوبصورت یادیں — Page 29
خاتون صالحہ 29 لجنہ اماء اللہ لاہور " آمنہ کیا تمہیں پتہ نہیں لگا تھا کہ میں کئی دن سے آئی ہوئی ہوں" میں نے عرض کیا کہ آپا جان آپ کی آمد کا مجھے کل ہی علم ہوا ہے تو آج میں صبح ہی حاضر خدمت ہو گئی ہوں۔پھر آپ نے خادمہ سے دو کرسیاں اپنی چارپائی کے قریب بچھوا ئیں اور فرمایا کہ بیٹھ جائیں۔اور باتوں کا سلسلہ ایسا چلا کے کہ ہمیں اندازہ ہی نہ ہوا کہ ایک بج چکا ہے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ بہت دیر ہو گئی ہے وکیل صاحب محترم اڑھائی بجے تک گھر پہنچ جاتے ہیں۔اس لئے اب آپ سے اجازت چاہتی ہوں۔حضرت آپا جان فرمانے لگیں کہ اس وقت کھانے کا وقت ہے کھانا کھائے بغیر جانے نہیں دوں گی۔والدہ صاحبہ پس و پیش کرتی رہیں اور اتنے میں محترمہ امتہ الباری صاحبہ کمرے میں تشریف لائیں اور بتایا کہ کھانا ٹیبل پر لگ چکا ہے۔کھانے پر تشریف لے آئیں مگر حضرت آپا جان نے فرمایا کہ ہم تینوں کا کھانا ٹرالی میں لگا کر یہیں لے آئیں۔جب ہم نے کھانا شروع کیا تو والدہ صاحبہ کی طرف دیکھ کر حضرت آپا جان نے فرمایا کہ کھانا اچھی طرح سے کھائیں کیا باقی گھر جاکر کھانا ہے۔میں سیر ہو کر کھانا کھائے بغیر جانے نہ دوں گی پھر ہماری طرف مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا۔کہ بعض خاندانوں کے ساتھ برابری کے سلوک سے چلنا ہوتا ہے۔اور قریب سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں"۔اللہ اللہ - حضرت آیا جان کا حسن سلوک ربوہ ہو یا لاہور ہر جگہ سدا عیاں ہو تا رہا لیکن اس بار عملی اظہار کے ساتھ ساتھ حضرت آپا جان کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے جملے جو ہم ناچیزوں کی نہ صرف عزت