خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 680
خطابات شوری جلد سوم ۶۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء آمد کا ۱/۱۰۰ مقبرہ بہشتی کی سجاوٹ وغیرہ کے لئے خرچ کرے اور پھر وصیتوں کو بھی بڑھانے کی کوشش کرے۔اگر ان کی تعداد بڑھ جائے تو دس پندرہ ہزار کی آمد مشکل نہیں۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں دو تین سال میں اتنا چندہ جمع ہو سکتا ہے کہ اس سے ساری ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔في الحال امانت سے قرض لے لیا جائے اور اگلے سال بتایا جائے کہ صدر انجمن احمد یہ نے کس قدر دیا ہے اور نئے موصیوں سے کس قدر آمد ہوئی ہے۔صدر انجمن احمدیہ کے لئے بارہ تیرہ لاکھ کے بجٹ سے پانچ ہزار کی رقم نکالنا مشکل بات نہیں۔اب جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں جو میں نے پیش کی ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فیصلہ اس پر ۳۹۲ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:- ۳۹۲ نمائندگان کی رائے ہے کہ اس تجویز پر عمل کیا جائے۔پس میں اسے منظور کرتا ہوں۔اگر انجمن توجہ کرے اور وہ ایک روپیہ سینکڑہ کی بجائے آٹھ آنے بھی دے تب بھی اڑھائی ہزار روپیہ ہو جاتا ہے اور پانچ لاکھ سے اڑھائی ہزار روپیہ نکالنا کوئی مشکل امر نہیں۔آخر جو لوگ وصیت کا روپیہ دے رہے ہیں اُن کے روپیہ کا کچھ نہ کچھ خرچ تو مقبرہ بہشتی پر بھی ہونا چاہئے اور پھر سجاوٹ اور خوبصورتی کا طبعا لوگوں پر اثر بھی پڑتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک سکھ رئیس قادیان آیا اور وہ بہشتی مقبرہ میں چلا گیا۔واپس آکر کہنے لگا ”ہیں تے میں سکھ۔پر دل میرا کردا اے کہ جے میں مر جاواں تے مینوں ایتھے دفن کر دیتا جائے۔یعنی ہوں تو میں سکھ پر میرا جی چاہتا ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو مجھے اس جگہ دفن کیا جائے۔بہرحال اس کے لئے کوئی نیا چندہ لگانے کی ضرورت نہیں۔کچھ صدر انجمن احمدیہ دیدے اور کچھ نئے لوگوں سے لے لیا جائے۔اس طرح کسی پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور کام بھی ہو جائے گا۔“