خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 584
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۴ رت ۱۹۵۶ء اولا دوں کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اسلام کا کام جاری رکھنے کی توفیق دے۔ہم لوگ غریب ہیں۔اگر صرف روپوں سے کام ہوتا تو اسلام کی خدمت کا جو موقع ہمیں ملا ہے کبھی ک ختم ہو چکا ہوتا لیکن اگر ہماری اولادوں میں ایمان کا سلسلہ قائم رہے تو تھوڑے روپیہ سے بھی قیامت تک کام ہوتا چلا جائے گا کیونکہ روپیہ کی مقدار کو دوام حاصل نہیں ہوتا بلکہ اخلاص اور ایمان کا جوش دوام اختیار کرتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء اور صحابہ کو جو کچھ ملا وہ اُنہوں نے اسلام کی خدمت میں لگا دیا لیکن اس کے بعد اسلام لا وارث ہو گیا۔روپیہ تو مسلمانوں کے پاس بہت آیا لیکن ان میں اخلاص اور ایمان کا سلسلہ باقی نہ رہا۔اب اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا ہے۔آپ ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔آپ کی آواز پر چند لوگ آپ کے ساتھ مل گئے اور اس چھوٹی سی جماعت نے تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔آپ کے پاس کوئی خزانہ نہیں تھا اور پھر ظاہری لحاظ سے بھی آپ کو کوئی شہرت حاصل نہیں تھی۔قادیان بھی کوئی مشہور مقام نہیں تھا بلکہ ایک معمولی اور گمنام سی بستی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں اپنے دین کی محبت کی چنگاری سلگا دی تھی اس لئے جو کام آپ سے پہلے بڑی بڑی اسلامی حکومتیں بھی نہ کر سکیں وہ ایک گمنام اور معمولی گاؤں کا رہنے والا کر گیا۔اس نے اسلام کی جو بے مثال خدمت کی ہے اس کا شدید سے شدید دشمنوں کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے۔مصر کا ایک مشہور اخبار الفتح ہے وہ احمدیت کی ہمیشہ مخالفت کرتا ہے۔ایک دفعہ اس میں کسی نے مضمون لکھا کہ احمدیوں کو ہم بے شک کا فر کہتے ہیں لیکن میں نے سارے افریقہ میں پھر کر دیکھا ہے، اسلام کی خدمت کی جو توفیق ۱۳۰۰ سال میں بڑی بڑی اسلامی حکومتوں کو نہیں ملی وہ اس چھوٹی سی جماعت کو ملی ہے۔اس جماعت نے جو کام کیا ہے وہ 66 اب تک کوئی دوسری مسلمان قوم نہیں کرسکی۔تو دیکھو روپیہ کوئی چیز نہیں صرف ایمان ہے جو کام کرتا ہے۔ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ یہ ایمان ہم میں اور ہماری آئندہ نسلوں میں قائم رکھے۔انسان جب تک مر نہ جائے اُس کے متعلق یہ یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آخر تک ایمان پر قائم رہے گا۔پس